.

مالی میں 'دور غلامی' کے مظاہر سامنے آنے لگے؟

فرانسیسی سیاح کو سیاہ فام فوجی کی 'لفٹ' تنازع بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مالی کے شہر باکومو کے ایک پنج تارہ ہوٹل ریڈی سن بلو میں دو روز قبل ہونے والے دہشت گردی کے واقعے نے پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی مگر ساتھ ہی اس واقعے کے دوران ایک تصویر نے بھی ایک نیا تنازع پیدا کر دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ذرائع ابلاغ میں مالی کے ایک سیاہ فام فوجی اہلکار کی تصویر شائع ہوئی ہے جس میں اس نے ہوٹل میں یرغمال بنائے گئے ایک یورپی سیاح کو بازیابی کے بعد اپنی کمر پر اٹھا رکھا ہے۔ یہ تصویر سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے اور فوجی کے اس اقدام کی حمایت اور مخالفت میں دھواں دار بحث جاری ہے۔

نامعلوم یورپی شکل و شباہت کے سیاح کو اپنی کمر پر اٹھانے کی مخالفت کرنے والوں کا خیال ہے کہ ایسا کرنے سے فوج کے مورال پر منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے۔ اس لیے فوجی اہلکار کو کسی سیاح کو اپنی کمر نہیں اٹھانا چاہیے جب کہ دوسری جانب اس کی حمایت کرنے والوں کے پاس بھی دلائل کی کمی نہیں۔ حامیوں نے کھلے لفظوں میں فوجی کو 'بہادر' اور 'جانباز' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے خوفزدہ سیاح کو اپنی کمر پر اٹھا کر طویل مسافت طے کی اور اسے ہسپتال پہنچانے میں مدد کی۔ اس لیے فوجی کا یہ اقدام انسانی ہمدردی کے پہلو سے قابل تحسین ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مالی کے فوجی نے جس شخص کو اپنی کمر پر لاد رکھا ہے وہ ایک فرانسیسی سیاح ہے۔ موریتانیہ سے تعلق رکھنے والے بلاگرز کا کہنا ہے کہ مالی ماضی میں فرانس کی کالونی رہ چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مالی کے لوگوں میں آج بھی فرانس کی غلامی کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ اسی غلامی کا اظہار اس تصویر میں بھی ہو رہا ہے۔

اس کے علاوہ چند برس قبل فرانس نے مالی میں دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی مہم کا آغاز کیا تو مالی کی حکومت نے اس کا خیر مقدم کیا تھا۔ یوں ملک کے شمالی علاقوں میں القاعدہ اور اس سے وابستہ دوسرے دہشت گرد گروپوں کا صفایا فرانس کی فوجی مہم جوئی کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔

ایک سماجی کارکن یسلم ولد محمود کا کہنا ہے کہ "اگر میں انصاف کی بات کروں تو اپنی قوم کے خادم کی حیثیت سے کسی دوسرے ملک کے شخص کو اپنی کمر پر اٹھانا قابل قبول نہیں ہو سکتا کیونکہ ایسا کرنے سے مالی کے عوام کو بھی سخت تحفظات ہو سکتے ہیں مگر جب میں دیکھتا ہوں کہ ہنگامی حالت میں بے گناہ چینیوں، ہندوئوں، یورپین، عرب اور مالی کے شہریوں کی مدد کی جاتی ہے تو اسے بُرا نہیں سمجھنا چاہیے"۔

احمد الشیخ کہتے ہیں کہ اس تصویر کے دو رخ ہیں۔ ایک میں انسانیت جھلک رہی ہے اور دوسرے میں فوجی کی توہین ہے۔ احمد بمبا بودا کہتے ہیں کہ "مالی کے لوگ ذہنی طور پر آج بھی نصاریٰ کے غلام ہیں۔ الشیخ بوللا نے تبصرہ کیا کہ "مجھے فوجی اہلکار کی مخالفت کرنے والوں پر حیرت ہے۔ اس نے اپنا فرض پورا کیا، تنقید کس بات پر!۔

الشیخ ولد حنون نے لکھا کہ "کچھ لوگ ایسی کیفیت کو بھی قبول کریں گے۔ یہ مالی کا ایک سپاہی ہے، جس نے ایک ایک مغربی شخص کو ہوٹل سے فرار کے وقت اپنے کندھوں پرپراٹھا رکھا ہے۔

احمد حماہ اللہ الشیخ نے تبصرہ کیا کہ "مالی کے لوگ فطرتا مروت پسند اور انسان دوست ہیں۔ عبدالرحمان کے کہا کہ "پیشہ وارانہ ذمہ داری کی انجام دہی کا عجیب انداز ہے"۔