.

قطر: وٹس اپ پر دھمکیاں دینے پر عورت کو جیل کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر میں ایک عدالت نے ایک عورت کو موبائل فون ایپلی کیشن وٹس اپ کے ذریعے ایک مرد کو توہین اور دھمکی آمیز پیغام بھیجنے کے الزام میں چھے ماہ جیل اور بیس ہزار قطری ریال (55 سو امریکی ڈالرز) جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

اس عورت پر اس کے لیے رہائش کا بندوبست کرنے والے ایک مرد کو دھمکی آمیز پیغام بھیجنے کا الزام تھا۔ اس کو قطر میں گذشتہ سال سے نافذ سائبر کرائم قانون کے تحت اس کی عدم موجودگی میں یہ سزا سنائی گئی ہے۔اس عورت سے مالک نے مکان خالی کرالیا تھا جس پر وہ نالاں تھی اور وہ مکان کا بند وبست کرنے والے شخص کو دھمکیاں دینے پر اتر آئی تھی۔

قطری روزنامے الرایا میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق اس عورت نے اس مرد کو ملک سے بے دخل کرانے کی بھی دھمکی دی تھی۔قطر میں گذشتہ سال سے نافذ سائبر کرائم قانون کے تحت یہ پہلا مقدمہ ہے جس کا عدالت نے فیصلہ سنایا ہے اور عورت کو قصور وار قرار دے کر سزا دی ہے۔

ناقدین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اس نئے قانون کے نفاذ سے اظہار اور تقریر کی آزادی اور خاص طور پر آن لائن مواد کی اشاعت کے لیے حاصل آزادی محدود ہوکر رہ جائے گی۔اس قانون کے تحت ملک کی سماجی اقدار یا امن عامہ کے لیے ضرررساں مواد کی آن لائن اشاعت یا تشہیر کرنے والے کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

اس قانون کے تحت حکومتی نیٹ ورکس کو ہیک کرنے ،آن لائن فراڈ اور بچوں کی نازیبا تصاویر کی تشہیر پر جیل اور جرمانے کی سزائیں سنائی جا سکیں گی۔ اس قانون میں شامل ایک دفعہ کے حوالے سے صحافیوں نے خاص طور پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اس دفعہ میں کہا گیا ہے کہ ''جو کوئی بھی آن لائن ایسی جھوٹی خبر پھیلائے گا جس سے ریاست کو نقصان پہنچے یا امن عامہ میں خلل واقع ہو تو اس کو تین سال تک قید اور پانچ لاکھ قطری ریال تک جرمانے کی سزا سنائی جاسکے گی''۔ اس کے تحت کسی کی ذاتی زندگی سے متعلق معلومات کے افشاء یا تشہیر پر بھی پابندی عاید کر دی گئی ہے۔