.

ایرانی زائرین 'چہلم' کے لئے زبردستی عراق داخل

عراق-ایران سرحد پر عوامی محاذ آرائی پر بے بس بغداد شدید نالاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی وزارت داخلہ نے ایرانی حکام پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ہزاروں شیعہ زائرین کو دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی راہداری پر 'حملے' کی اجازت دی جس کے بعد یہ حملہ آور بغیر ویزہ عراق میں داخل ہو گئے۔ دونوں ہمسایہ ملکوں کی سرحد پر عوامی محاذ آرائی کا یہ منفرد واقعہ ہے۔

"پیدل ایرانی زائرین عراق میں اہل تشیع کے مقدس شہر کربلا میں امام حسین کے چہلم میں شرکت کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے سرحدی باڑ اور محافظوں کی پروا کئے بغیر کربلا کی طرف اپنا مارچ جاری رکھا،" وزارت کا کہنا تھا۔

وزارت کے بیان میں الزام عاید کیا گیا ہے کہ ایرانی زائرین جان بوجھ کرعراقی سرحدی راہدی کی جانب دوڑتے ہوئے آئے تاکہ عراقی حکام کو دباؤ میں لا کر غیر قانونی طور پر کربلا داخل ہوا جائے۔ عراقی حکام نے زائرین کو منتشر کرنے کے لئے طاقت کے استعمال کا قانونی حق روبعمل نہیں لائے تاکہ جانی نقصان نہ ہو۔

"ایرانی حکومت نے بغیر ویزہ زائرین کو عراقی سرحدی راہداری کی سمت آنے کی اجازت دیکر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔"

عراق میں شعیہ حکومت کو ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ تہران، عراق کی طاقتور ملیشیاؤں کو تربیت اور اسلحہ فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ ملک کے شمال اور مغربی علاقوں میں سرگرم شدت پسند سنی تنظیم 'داعش' کے خلاف مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

پیر کے روز جاری کی جانے والی ایک وڈیو میں سیاہ ماتمی لباس پہنچے سیکڑوں زائرین ایک بڑے گیٹ کو زبردستی کھولتے ہوئے عراقی چیک پوائنٹ کے سامنے سے بھاگتے ہوئے اندر میں داخل ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کی بے بسی دیدنی تھی۔