.

شدید زخمی ایرانی جنرل نے انٹرویو کیسے دیا؟

جنرل سلیمانی کا بغیر تصویر پراسرار بیان منظرعام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کئی ہفتے غائب رہنے کے بعد پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ایلیٹ فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کا ایک پراسرار بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے رواں سال حج کے موقع پر بھگدڑ کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے سابق سفیر غضنفر رکن آبادی کے جسد خاکی کی واپسی پر تبصرہ کیا ہے۔

جنرل سلیمانی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی شدید زخمی ہونے کے بعد تہران کے ایک ہسپتال میں انتہائی نگہداشت میں رکھے جانے کی بھی خبریں گردش کررہی ہیں۔ اگر وہ شدید زخمی ہیں اور انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے تو انہوں نے ایک ویب پورٹل کو یہ انٹرویو کیسے دیا ہے؟

حال ہی میں یہ اطلاعات آئی ہیں کہ دو ہفتے قبل شام میں شدید زخمی ہونے کے بعد جنرل سلیمانی کا ایران میں علاج جاری ہے اور ان کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔

تازہ بیان ایرانی فوج کی مقرب ایک فارسی نیوز ویب سائٹ"وقت" نے جاری کیا ہے۔ اس بیان کے ساتھ جنرل سلیمانی کی کوئی تازہ تصویر پوسٹ نہیں کی گئی البتہ انہوں نے حج کے دوران بھگدڑ مچنے سے مارے جانے والے سابق سفیر غضنفر رکن آبادی کی میت کی واپسی پر مختٖصر گفتگو کی ہے اورانہیں"شہید" قرار دیتےہوئے ان کی شہات پر فخر کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال حج کے موقع پر منیٰ کے مقام پر بھگدرڑ کے نتیجے میں سیکڑوں حجاج کرام شہید ہو گئےتھے۔ مرنے والوں میں بڑی تعداد ایرانی حجاج پر مشتمل تھی جن میں ایرانی فوج کے کئی سابق فوجی اور سفارت کار بھی شامل تھے جن میں لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضنفر رکن آبادی کا نام بھی لیا جاتا تھا۔

"الوقت" ویب پورٹل کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل سلیمانی کا کہنا تھا کہ منیٰ میں حج کے دوران جاں بحق ہونے والے سابق سفیر رکن آبادی ایران کی ایک انقلابی شخصیت تھے۔ انہوں نے دنیا کے مختلف ملکوں میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ایک کامیاب سفیر کی خدمات انجام دیں۔ سنہ 2006ء میں اسرائیل کے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف حملوں کے دوران بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

جنرل سلیمانی نےغضنفر رکن آبادی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے صرف ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ رکن آبادی نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ ان کی شہادت پر پوری قوم کو فخر ہے۔ وہ جب تک زندہ رہے انہوں نے دنیاکے مختلف ملکوں میں ایرانی انقلاب کی بھرپور ترجمانی کی۔

خیال رہے کہ غضنفر رکن آبادی کی منیٰ میں بھگدڑ میں ہلاکت کی اطلاعات پہلے بھی آتی رہی ہیں مگر اس حوالے سے پراسراریت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ ایرانی حکومت کے کئی عہدیدار یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ رکن آبادی حج پر نہیں گئے۔

حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ کے مشیر قانون حسن قشقاوی اور معاون وزیرخارجہ برائے امیر عبداللھیان نے کہا تھا کہ رکن آبادی کے بارے میں ان سے منسوب بیانات درست نہیں ہیں۔ بھگدڑ حادثے کے فوری بعد ایران کی کئی ویب سائیٹس نے رکن آبادی کے منیٰ میں مارے جانے کی خبروں کی تردید کی تھی تاہم بعد میں یہ اطلاعات بھی ملی تھیں کہ رکن آبادی کی میت سعودی عرب میں ہے جہاں اس کا پوسٹ مارٹم کرنے کےبعد اسے ایران کے حوالے کیا جائے گا۔

جنرل سلیمانی کا اپنی صحت بارے تبصرہ

فارسی ویب پورٹل"وقت" سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل سلیمانی کا کہنا تھا کہ شمالی حلب میں باغیوں کےحملے میں ان کی ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کی تمام خبریں قطعی بے بنیاد ہیں۔ ویب سائٹ کے بیان کے مطابق جب جنرل سلیمانی سے پوچھا گیا کہ وہ شام میں لڑائی کے دوران اپنے زخمی ہونے کی خبروں پر کیا کہیں گے تو انہوں نے مسکرا کر جواب دیا کہ "میں نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ پہاڑوں میں بسر کیا ہے اور یہی میری خواہش تھی جسے میں نے پور کیا"تاہم ویب سائٹ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا جنرل سلیمانی نے اپنے زخمی ہونے کی صاف تردید کی ہے یا نہیں۔

دو روز قبل ایرانی اپوزیشن کی جانب سے یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ جنرل سلیمانی اس وقت تہران کے بقیۃ اللہ نامی فوجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں جہاں ان کی حالت بدستور تشویشناک ہے۔ وہ وسط نومبر کو شمال حلب میں باغیوں کے ساتھ حملے میں شدید زخمی ہوگئے تھے۔ ان کےسرمیں گولیاں لگی تھیں۔ زخموں کی دو بار سرجری کی جا چکی ہے تاہم جنرل سلیمانی ہنوز انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہیں۔ اگر وہ انتہائی نگہداشت کے شعبے میں داخل ہیں تو انہوں نے ایک ویب پورٹل کو انٹرویو کیسے دیا ہے؟ اگر انٹرویو دیا ہے تو ان کی تصویر کیوں جاری نہیں کی گئی؟