.

گوگل اور اسرائیل کے درمیان ایک نئے معاہدے کا انکشاف

عالمی شہرت یافتہ سرچ انجن کی تردید، اسرائیل کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی شہرت یافتہ سرچ انجن "گوگل" اور اسرائیل کے درمیان ایک نئے سمجھوتے کا انکشاف ہوا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت اسرائیل کو ویڈیو شیرنگ ویب سائٹ "یو ٹیوب" پر فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے خلاف پوسٹ کردہ مواد کی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

گوگل انتظامیہ نے اسرائیل کے ساتھ کسی بھی اسے معاہدے کی سختی سے تردید کی ہے جب کہ دوسری جانب اسرائیل کے نائب وزیر خارجہ سمیت کئی دوسرے عہدیداروں نے اعتراف کیا ہے کہ گوگل اور تل ابیب کے درمیان باہمی تعاون کا معاہدہ گذشتہ سوموار کو نیویارک میں طے پایا تھا۔

گوگل کی جانب سے جاری ایک بیان میں ان خبروں کی سختی سے تردید کی گئی ہے جن میں کہا گیا تھا گوگل نے یو ٹیوب پر پوسٹ کردہ مواد کی نگرانی کے لیے اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

عالمی سرچ انجن کی انتظامیہ نے دو ٹوک الفاظ میں بتایا ہے کہ کمپنی کا اسرائیل کے ساتھ یو ٹیوب پر پوسٹ کیے گئے مواد کی نگرانی کے بارے میں کسی قسم کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے۔

خیال رہے کہ حال ہی میں اخبار"انٹرنیشنل بزنس ٹائمز" نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ گوگل کمپنی اور نائب اسرائیلی وزیر خارجہ نے باہمی تعاون کے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت اسرائیل اور گوگل مل کر 'یو ٹیوب' پر اسرائیل مخالف مواد کی نگرانی کریں گے۔ خاص طور پر اسرائیل کے خلاف نسل پرستانہ مظاہر اور فلسطینیوں کے نظام تعلیم سے متعلق مواد کی نگرانی کی جائے گی۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" نے بھی اپنی رپورٹ میں گوگل کے ترجمان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سوموار کے روز گوگل کے مشیر قانون جونیپر ڈائونز اور ایگزیکٹو ڈائریکٹر سوسان وجسکی جب کہ اسرائیلی نائب وزیر خارجہ زیپی ہوٹولی کے درمیان ایک ملاقات ہوئی تھی جس میں یو ٹیوب پر پوسٹ کیے گئے مواد کی نگرانی کے طریقہ کار پر بات چیت کی گئی تھی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزارت خارجہ نے اس خبرکی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے اور گوگل کے درمیان یو ٹیوب سے متعلق مواد کی مانیٹرنگ کے حوالے سے ایک معاہدے طے پا چکا ہے۔