.

80 سعودی خاوندوں نے بیویوں کو ایڈز میں مبتلا کردیا

مملکت میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 21761 ہوگئی، 6334 سعودی ،باقی غیر ملکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے انکشاف کیا ہے کہ سال 2014ء کے دوران قریباً 80 خواتین کے ایڈز میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔ان میں سے 95 فی صد خواتین اپنے خاوندوں کے ساتھ ہم بستری کے نتیجے میں اس موذی مرض کا شکار ہوئی تھیں۔

وزارت صحت کے تحت ایڈز پروگرام کی ڈائریکٹر ثناء فلم بین نے بتایا ہے کہ ''ان میں سے بیشتر خواتین کو اس سے صدمہ پہنچا تھا کہ وہ سعودی مملکت سے باہر جائے بغیر ہی اس جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوگئی تھیں''۔

ثناء فلم بین نے بتایا ہے کہ مملکت بھر میں ایڈز کے معائنے ،تشخیص اور مشاورت کے لیے 48 مراکز قائم کیے گئے ہیں،ان میں سے 36 مختلف مقامات پر قائم ہیں اور 12 موبائل ہیں۔ان مراکز میں مرض کی شناخت کے اخفاء کو مقدم سمجھا جاتا ہے اور خواتین کے تحفظ کے پیش نظر ان کے ناموں کا ریکارڈ نہیں رکھا جاتا بلکہ انھیں نمبر دیے گئے ہیں اور انہی سے ان سے رابطہ کیا جاتا ہے۔البتہ صرف ڈاکٹر حضرات ہی ان کے ناموں سے آگاہ ہوتے ہیں اورانھیں بھی صرف انتظامی وجوہ کی بنا پر مریضوں کے نام بتائے جاتے ہیں۔

ان کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق سعودی عرب میں اس وقت ایڈز میں مبتلا مریضوں کی تعداد 21761 ہے۔ان میں سے 6334 سعودی اور 15427 غیر سعودی ہیں۔2014ء کے دوران پروگرام نے 1222 نئے مریضوں کا اندراج کیا تھا۔ان میں 364 سعودی مرد اور 80 سعودی خواتین تھیں۔ان کے علاوہ 778 غیر سعودی خواتین ایڈز کے مرض میں مبتلا پائی گئی تھیں۔

ثناء فلم بین نے سعودی عرب میں ایڈز کے مرض کی آمد کے حوالے سے بتایا کہ 1984ء میں پہلے مریض کا پتا چلا تھا۔اعداد وشمار کے مطابق ایڈز کا شکار کل مریضوں میں تین فی صد بچے ہیں اور متاثرہ ماؤں کا دودھ پینے سے ایڈز کا شکار ہونے والے بچوں کی تعداد بھی تین فی صد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایڈز میں مبتلا افراد میں 15 سے 49 سال کی عمر کے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور وہ کل مریضوں کی تعداد کا 81 فی صد ہیں۔صرف دو فی صد مریضوں کو سرنج کے ذریعے نشہ آور ادویہ لینے سے ایڈز ہوئی تھی۔

انھوں نے ایڈز کے وائرس کی ایک مریض سے دوسرے افراد میں منتقلی کی اہم وجہ یہ بیان کی ہے کہ ''بالعموم مرد اور عورت کے درمیان غیر محفوظ طریقے سے مباشرت کے نتیجے میں ایڈز ایک فرد سے دوسرے فرد کو لاحق ہوتی ہے۔ترقی یافتہ ممالک میں جہاں محفوظ طریقے سے جنسی تعلق استوار کیا جاتا ہے،وہاں ہم جنسی پرستی اس مرض کے ایک فرد سے دوسرے فرد کو منتقلی کی بڑی وجہ ہے''۔

دنیا بھر کی طرح سعودی عرب اور دوسرے عرب ممالک میں یکم دسمبر کو ایڈز کا عالمی دن منایا گیا ہے۔اس موقع پر خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے وزرائے صحت کے ایگزیکٹو بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل پروفیسر توفیق بن احمد خوجہ نے کہا کہ ''جی سی سی کے ہر ایک لاکھ شہریوں میں ایچ آئی وی کے کیسوں کی شرح 0.5 سے 1.95 فی صد کے درمیان ہے اور یہ عرب خطے میں سب سے کم شرح ہے''۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں کے دوران خلیجی عرب شہریوں میں غیر صحت مند طرز زندگی اپنانے کی وجہ سے ایچ آئی وی کے کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔اس مہلک مرض کے خطرناک اثرات سے عدم آگہی بھی اس کے پھیلنے کی ایک اور وجہ ہے۔اس کے علاوہ شہریوں کے غیرملکی دوروں کی کثرت ،بڑے شہروں میں سماجی سطح پر تبدیلیاں ،منشیات کا انجیکشن کے ذریعے استعمال اور خلیجی عرب ممالک میں غیر ملکی تارکین وطن کی بہت بڑی تعداد میں موجودگی بھی ایڈز کے پھیلاؤ کی نمایاں وجوہات ہیں۔