.

القاعدہ دہشت گردوں کی 'حلقہ یاراں' میں اٹکھیلیاں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"دہشت گردی کے خلاف سعودی جنگ" کے عنوان سے 'العربیہ' پر پیش کی جانے والی دستاویزی فلم کی پہلی قسط سے ماخوذ زیر نظر ویڈیو میں دنیا کو خون کے آنسو رلانے والے خوفناک جنگجوؤں کے ان لمحات کی ایک جھلک دیتی جا سکتی کہ جب وہ بے تکلف ماحول میں آپس میں گفتگو کرتے تھے۔

'حلقہ یاراں' میں انتہا پسند وں کو خوشگوار موڈ اور اٹکھیلیاں کرتا دیکھ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ ایسے کم گو اور شرمیلے لوگ اگلے لمحے سفاک قاتل بن کر انسانیت پر ہلاکت خیز وار کر گزریں گے۔ ویڈیو کے ساتھ عربی وائس اوور میں ایک نامعلوم دہشت گرد کا اعترافی بیان چل رہا ہے جس میں وہ کہتا ہے کہ "ہم ان آپریشنز میں حصہ لیتے رہتے ہیں جن میں یورپی اور امریکی شہریوں کو قتل اور اغواء کیا جاتا ہے۔"

'العربیہ' کی اس دستاویزی فلم کے ایگزیکیٹو پروڈیوسرعادل عبدالکریم کا کہنا ہے" سیریز کی منفرد بات دراصل سعودی سیکیورٹی حکام کے توسط سے اہم ترین معلومات تک رسائی ہے۔ سعودی حکام کے القاعدہ پر کریک ڈاؤن کے دوران ہاتھ لگنے والی اہم فوٹیج کا دستاویزی فلم میں استعمال 'العربیہ' کا پیشہ وارانہ اعزاز ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ "یہ امر بھی ہمارے لئے مدد کا باعث بنا کہ دہشت گردوں کو اپنی ہر کارروائی عکس بند کرنے کا خبط تھا۔ انہوں نے اپنے پلاننگ اجلاس، محفوظ ٹھکانوں کی نشت وبرخاست اور حملے کے مقام تک جانے کی وڈیو فوٹیج بنا رکھی تھی جو اب 'العربیہ' کو ملی ہے۔"

عبدالکریم نے مزید بتایا کہ "ہم نے القاعدہ کی 1300 گھنٹوں پر مشتمل فوٹیج حاصل کی جو دہشت گردوں کے ذاتی ویڈیو ریکارڈ، موبائل فونز سمیت 8 ایم ایم فلم سٹرپ پر محفوظ تھی۔" "ہم تین سال سے اس دستاویزی فلم کا کام کر رہے تھے۔"

پروڈیوسر نے بتایا کہ "اس ٹی وی سیریز کو بنانے میں تین سال تک کا وقت لگ گیا ہے۔ ہم نے اس فلم کو 150 منٹ تک کا بنا دیا ہے جو کہ ٹی وی پر تین گھنٹوں کے برابر ہے۔ ہم نے اس کہانی کو ڈرامائی انداز میں بتانے کی کوشش کی ہے مگر ہماری یہ بھی کوشش تھی کہ ہم ان 150 منٹ میں تمام پہلوئوں کا احاطہ کرلیں۔"

دستاویزی فلم کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر نے بتایا کہ "ہم نے سیکڑوں گھنٹوں پر محیط فوٹیج کو کھنگال کر اس میں سے150 منٹ دورانیے کا ٹی وی لوازمہ نکالا ہے۔ ہماری کوشش رہی کہ اس لوازمہ کو ڈرامائی انداز میں پیش کریں تاکہ دہشت گرد تنظیم کی خوفناک کارروائیوں پر تمام زاویوں سے روشنی ڈالی جا سکے۔ جتنا مواد ہمارے پاس تھا، اسے دیکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ دستاویزی فلم میں شدت پسند تنظیم کے بارے میں صرف چیدہ چیدہ معلومات ہی ناظرین کے سامنے آ سکیں گی۔"