.

القاعدہ کے خوفناک رہنما کی ویڈیو پہلی مرتبہ منظر عام پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کا خطرناک ترین دہشت گرد عبداللہ محمد الرشود سعودی عرب میں تنظیم کا سرکردہ حامیوں میں سے تھا۔ وہ مملکت کے 26 انتہائی مطلوب افراد میں بھی شامل تھا ۔

العربیہ نیوز چینل کی شدت پسند تنظیم کے بارے میں خصوصی دستاویزی فلم میں انکشاف کیا گیا ہے کہ القاعدہ کی افتاء کمیٹی کا رکن الرشود اب عراق میں لڑائی کے دوران مارا جا چکا ہے۔

پہلی مرتبہ سامنے آنے والے فوٹیج میں اسے خصوصی درس دیتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ رشود نے خودکش بمباروں کی تیاری اور سعودی نوجوانوں کی بھرتی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ منسلک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ ایک مطلوب شخص کے بے جان لاشے کے پاس کھڑا ہے جو کہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوچکا ہے۔

العربیہ کی خصوصی دستاویزی فلم میں بے جان لاشے کے طور پر دیکھا جانےو الا یہ مطلوب شخص عامر محسن الشہیری ہے۔ یہ 23 سالہ نوجوان نومبر 2003ء میں السویدی ضلع میں ایک جھڑپ کے دوران زخمی ہوگیا تھا۔ القاعدہ نے اسے کسی ہسپتال میں منتقل کرنے کی بجائے اسے اپنے کوارٹرز میں رکھ کر اس کا علاج کرنے کی کوشش کی مگر وہ اس کی جان نہ بچا سکے۔ القاعدہ کے ارکان نے عامر الشہیری کو صحرا میں دفن کرنا تھا۔سیکیورٹی حکام کے سامنے القاعدہ کے گرفتار ارکان کے انکشاف کے بعد اس کی قبر کا سراغ لگا تھا۔

دستاویزی فلم کے مطابق القاعدہ دہشت گردوں کو اپنی ہر کارروائی عکس بند کرنے کا خبط تھا۔ انہوں نے اپنے پلاننگ اجلاس، محفوظ ٹھکانوں کی نشت وبرخاست اور حملے کے مقام تک جانے کی وڈیو فوٹیج بنا رکھی تھی جو اب 'العربیہ' کو ملی ہے جسے نیوز چینل نے بڑی محنت سے کھنگال کر اس میں سے150 منٹ دورانیے کا ٹی وی لوازمہ نکالا ہے۔

فلم کے پروڈیوسر کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش تھی کہ اس لوازمہ کو ڈرامائی انداز میں پیش کریں تاکہ دہشت گرد تنظیم کی خوفناک کارروائیوں پر تمام زاویوں سے روشنی ڈالی جا سکے۔ جتنا مواد ہمارے پاس تھا، اسے دیکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ دستاویزی فلم میں شدت پسند تنظیم کے بارے میں صرف چیدہ چیدہ معلومات ہی ناظرین کے سامنے آ سکیں گی۔