.

سعودی عرب: سوشل میڈیا کا مذموم مقاصد کے لیے استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ایک حالیہ مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے 67 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس کو غیر اخلاقی مواد ،انحرافی نظریات ،ناپسندیدہ سیاسی سوچ اور مشتبہ اقتصادی مقاصد کے فروغ وتشہیر کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔

اس مطالعے کے مطابق سعودی عرب میں انحرافی نظریات اور خیالات پر مشتمل 99 فی صد مواد کی ٹویٹر کے ذریعے تشہیر کی جاتی ہے۔ان میں زیادہ تر اکاؤنٹس کو افراد چلا رہے ہیں۔ایک فرد ٹویٹر پر اپنے کئی اکاؤنٹس بنا سکتا ہے اور ان میں سے بعض جعلی بھی ہوسکتے ہیں۔

سعودی نوجوانوں میں انحرافی نظریات کے پھیلاؤ میں سوشل میڈیا کے کردار کے موضوع پر یہ مطالعہ ایک ماہر سماجیات ابراہیم آل سہیمی نے کیا ہے۔اس کے نتائج کے مطابق فیس بُک اور یو ٹیوب بھی نوجوانوں کی اکثریت کو اپنی جانب راغب کرتے ہیں۔

اس تحقیقی مطالعے میں سوشل میڈیا پر تبادلہ کیے جانے والے موضوعات ،ان کی شراکت ،شائع شدہ مضامین اور ویڈیو کلپس کے لیے پسندیدگی اور یو ٹیوب کے ناظرین کی تعداد پر توجہ مرکوز کی گئی تھی اور اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ کس طرح کے موضوعات اور مواد کو زیادہ تعداد میں شیئر اور پسند کیا جاتا ہے۔

اس تحقیق کے نتائج کے مطابق سوشل میڈیا پر غیراخلاقی سرگرمیوں اور مواد کو فروغ دینے والے گروپ 94.6 فی صد صارفین کی نمائندگی کرتے ہیں یعنی ان کی تعداد 63 لاکھ 80 ہزار ہے۔ان کے بعد انحرافی سیاسی نظریات اور سوچ کو فروغ دینے والوں کی تعداد ہے۔یہ کل تعداد کا 4 فی صد ہیں اور ان کی تعداد 265664 ہے۔ 37086 گروپ (0.55 فی صد) مذہبی انحراف کی تشہیر کرتے ہیں۔35256 گروپوں نے ثقافتی اور تعلیمی انحراف کی تشہیر کی ہے اور 4178 گروپ سوشل میڈیا پر مشتبہ اقتصادی منصوبوں یا غیر قانونی تجارت کا پروپیگنڈا کرتے پائے گئے ہیں۔

آل سہیمی نے اپنے مطالعاتی تجزیے میں کہا ہے کہ ''منحرفین کے ان گروپوں کے اثرات کی وجہ سے خاص طور پر نوجوان اسلام کے بارے میں غلط تصورات کو سیکھتے ہیں۔وہ غیر اسلامی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوّث ہوجاتے ہیں اور منشیات کے بھی عادی بن جاتے ہیں''۔

اقتصادی انحراف کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ''سوشل میڈیا پر بعض گروپ شادیوں اور دوسری تقاریب میں فضول خرچی اور اسراف کی تشہیرکرتے ہیں اور غیر قانونی تجارت کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں''۔

ان کا کہنا تھا کہ بعض گروپ دہشت گردی کی سرگرمیوں ،سیاسی مظاہروں اور احتجاجی مارچوں کی تشہیر کررہے ہیں۔وہ نوجوان مردوں اور عورتوں کو منحرف گروپوں کے لیے بھرتی کرتے ہیں اور اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے نسلی یا قبائلی تعصب پھیلاتے ہیں۔