.

سعودی نائب ولی عہد 2015ء کی بااثر شخصیات میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے فارن پالیسی میگزین نے سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان کو اس سال کے سب سے نمایاں فیصلہ سازوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔

فارن پالیسی میگزین نے سعودی شہزادے کو ''عقابی تبدیلی کو مہمیز'' دینے والے رہ نماؤں کی فہرست میں شامل کیا ہے اور لکھا ہے کہ ''ان کے عہدے سے مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب کا نیا کردار متعیّن ہوا ہے۔انھیں بعض سعودی ان کی عمر کی وجہ سے ملک کی نوجوان اکثریت کا نمائندہ بھی قرار دے رہے ہیں''۔

واضح رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے وزیردفاع کی حیثیت میں یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف فضائی مہم کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا تھا۔سعودی عرب کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیارے یمن میں حوثی باغیوں اور ان کے اتحادی سابق صدر علی عبداللہ صالح کے وفادار جنگجوؤں کے خلاف مارچ سے فضائی حملے کر رہے ہیں۔ اس جنگی مہم کے نتیجے میں یمن کے عالمی سطح پر تسلیم شدہ صدر عبد ربہ منصور ہادی کے حامی حوثی باغیوں سے چھینے گئے بہت سے علاقے واپس لینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اس فہرست میں شامل نو دیگر عالمی شخصیات میں جرمن چانسلر اینجیلا مرکل بھی ہیں جنھوں نے تارکین وطن اور مہاجرین سے متعلق بے قدرو قیمت ناقابل عمل یورپی پالیسی کو کوڑے دان میں اٹھا پھینکا تھا۔

خارجہ پالیسی میگزین نے جرمن چانسلر کو یورپی یونین کے رکن ممالک میں مزید مہاجرین کی آمد کی راہ ہموار کرنے کا کریڈٹ دیا ہے۔انھوں نے دوسرے رکن ممالک پر بھی زوردیا تھا کہ وہ ان تارکین وطن اور جنگ زدہ ممالک سے آنے والے مہاجرین کے لیے اپنے دروازے کھول دیں اور ان کو قبول کریں۔

اس فہرست میں یونان کے سابق وزیرخزانہ یانس ویرو فاکس کا نام بھی شامل ہے۔انھوں نے یونان کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے غیرملکی قرض دہندہ اداروں کی سخت شرائط کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔

خارجہ پالیسی میگزین کی فہرست میں بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ بھی شامل ہیں لیکن ان کا نام اس لیے نہیں آیا کہ انھوں نے حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کو ڈھونگ مقدمات میں تھوک کے حساب سے پھانسی کی سزائیں دلوائی ہیں اور انھیں تختہ دار پر لٹکایا ہے بلکہ انھوں نے اپنے ملک کو ڈوبنے سے بچانے کے لیے اقدامات کیے ہیں اور بنگلہ دیش واحد ترقی پذیر ملک ہے جس نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق حکمت عملی اختیار کی ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سطح سمندر کی بلندی کے خطرے سے ملک کی سترہ کروڑ آبادی کو بچایا جاسکے۔