.

"مذہب کا نام لیکر القاعدہ جنگجو بھرتی کئے گئے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شدت پسند تنظیم القاعدہ نے مذہب کی آڑ لیکر اپنی صفوں کے لئے خودکش بمبار اور دہشت گرد کیسے بھرتی کئے اس کی ایک جھلک 'العربیہ' کی ایکسکلوسیو دستاویزی فلم سے ماخوذ زیر نظر کلپ میں دیکھی جا سکتی ہے جس میں ایک تفیش کار بتا رہا ہے "کہ ان کے کریک ڈاؤن میں جن افراد کو گرفتار کیا گیا ان میں کئی بہت کم عمر تھے اور جب ہم انہیں حراست میں لینے لگے تو ان کا خیال تھا کہ ہم انہیں ان کے خاندانوں کے پاس واپس پہنچانے لگے ہیں۔"

تفتیش کار کے بقول "انہیں [نو عمر جنگجو] اپنے گرد ونواح کی کوئی خبر نہ تھی۔ میں تین بچوں سے ملا، ان میں سے ایک 14 سال سے بھی کم عمر تھی۔ ہم نے پوچھا تم یہاں کیوں ہو؟ اس نے جواب دیا کہ ہم قرآن فہمی کے سات روزہ کورس پر مکہ آئے ہیں۔ القاعدہ ریکروٹس کے والدین دھوکا دیا گیا کہ ان کے بچوں کو قرآن سکھانے لیجا رہے ہیں۔"

'العربیہ' کی اس دستاویزی فلم کے ایگزیکیٹو پروڈیوسرعادل عبدالکریم کا کہنا ہے" سیریز کی منفرد بات دراصل سعودی سیکیورٹی حکام کے توسط سے اہم ترین معلومات تک رسائی ہے۔ سعودی حکام کے القاعدہ پر کریک ڈاؤن کے دوران ہاتھ لگنے والی اہم فوٹیج کا دستاویزی فلم میں استعمال 'العربیہ' کا پیشہ وارانہ اعزاز ہے۔"

انہوں نے مزید بتایا کہ "یہ امر بھی ہمارے لئے مدد کا باعث بنا کہ دہشت گردوں کو اپنی ہر کارروائی عکس بند کرنے کا خبط تھا۔ انہوں نے اپنے پلاننگ اجلاس، محفوظ ٹھکانوں کی نشت وبرخاست اور حملے کے مقام تک جانے کی وڈیو فوٹیج بنا رکھی تھی جو اب 'العربیہ' کو ملی ہے۔"

عبدالکریم نے مزید بتایا کہ "ہم نے القاعدہ کی 1300 گھنٹوں پر مشتمل فوٹیج حاصل کی جو دہشت گردوں کے ذاتی ویڈیو ریکارڈ، موبائل فونز سمیت 8 ایم ایم فلم سٹرپ پر محفوظ تھی۔" "ہم تین سال سے اس دستاویزی فلم کا کام کر رہے تھے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ "اس ٹی وی سیریز کو بنانے میں تین سال تک کا وقت لگ گیا ہے۔ ہم نے اس فلم کو 150 منٹ تک کا بنا دیا ہے جو کہ ٹی وی پر تین گھنٹوں کے برابر ہے۔ ہم نے اس کہانی کو ڈرامائی انداز میں بتانے کی کوشش کی ہے مگر ہماری یہ بھی کوشش تھی کہ ہم ان 150 منٹ میں تمام پہلوئوں کا احاطہ کرلیں۔"

دستاویزی فلم کے ایگزیکٹیو پروڈیوسر نے بتایا کہ "ہم نے سیکڑوں گھنٹوں پر محیط فوٹیج کو کھنگال کر اس میں سے150 منٹ دورانیے کا ٹی وی لوازمہ نکالا ہے۔ ہماری کوشش رہی کہ اس لوازمہ کو ڈرامائی انداز میں پیش کریں تاکہ دہشت گرد تنظیم کی خوفناک کارروائیوں پر تمام زاویوں سے روشنی ڈالی جا سکے۔ جتنا مواد ہمارے پاس تھا، اسے دیکھتے ہوئے ہمیں لگتا ہے کہ دستاویزی فلم میں شدت پسند تنظیم کے بارے میں صرف چیدہ چیدہ معلومات ہی ناظرین کے سامنے آ سکیں گی۔"