.

سعودی عرب :90 پیشوں پر 26 ممالک کے شہریوں کا کنٹرول

پاکستانی تارکینِ وطن کی تعداد سرفہرست،سب شعبوں میں چھائے ہوئے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی تارکینِ وطن کی تعداد اور وہاں مختلف پیشوں سے وابستہ نمایاں غیرملکیوں کے حوالے سے بالعموم غلط فہمی پائی جاتی ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس وقت وہاں فلپائنی اور بنگلہ دیشی کم اجرتوں پر کام کی وجہ سے چھائے ہوئے ہیں لیکن اعداد و شمار اس غلط تصور کی تردید کرتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی تارکین وطن کی دوسرے ممالک کے شہریوں کے مقابلے میں تعداد سب سے زیادہ ہے اور وہ مختلف شعبوں میں چھائے ہوئے ہیں۔

عرب روزنامے مکہ میں شائع شدہ ایک مطالعاتی سروے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں مقیم چھبیس ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کا قریبا نوّے پیشوں پر مکمل کنٹرول ہے۔یہ سروے سعودی میڈیکل سنٹر برائے مشاورت اور مطالعہ (ایس ایم سی) نے کیا ہے۔اس کے نتائج کے مطابق سعودی شہری اس فہرست میں سب سے آخر میں آتے ہیں اور وہ صرف نو پیشوں سے وابستہ ہیں۔

سعودی شہری تدریس اور حفظ قرآن کے شعبے سے وابستہ ہیں۔وہ مساجد میں پیش امام ہیں،مؤذن ہیں،تجارتی بنکوں میں فرنٹ ڈیسک افسر کے طور پر کام کررہے ہیں۔سرکاری بسوں اور بھاری ٹرکوں کے ڈرائیور ہیں،تعلیمی اداروں کی بسیں چلاتے ہیں ،کاروں کی نیلامی کے ڈیلر ہیں اور سکیورٹی محافظ ہیں۔

اس سروے کے نتائج کے مطابق نوممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کا نجی شعبے کی ستر فی صد ملازمتوں پر کنٹرول ہے۔ان ممالک میں پاکستان سرفہرست ہے۔اس کے بعد یمن ،مصر ،بھارت ،بنگلہ دیش ،اردن ،فلسطین ،سوڈان اور شام کا بالترتیب نمبر آتا ہے۔

سنٹر کے ڈائرکٹر جمال بنون کا کہنا ہے کہ اس فیلڈ سروے میں ان دفتری ملازمتوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا جن سے سعودیوں کو روزانہ کی بنیاد پر براہ راست کوئی واسطہ نہیں ہوتا ہے۔سروے کے نتائج کے مطابق یمنیوں کا تمباکو اور شیشہ مارکیٹ پر مکمل کنٹرول ہے۔اس کے علاوہ گوشت یا مرغی کے گوشت ملے چاول پکانے والے ریستورانوں کے مالکان بھی یمنی ہیں۔

مصری اور بھارتی تارکین وطن کی اکثریت سعودی عرب میں فارماسسٹ ہے یعنی ادویہ اور دواسازی کی صنعت سے وابستہ ہے جبکہ فلپائن ،انڈونیشیا اور ایتھوپیا سمیت دس ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن بیوٹی سیلون کی دکانوں پر کام کرتے ہیں یا انھوں نے یہ دکانیں کھول رکھی ہیں۔

سروے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان ،یمن ،مصر اور بھارت سے تعلق رکھنے والے تارکین کی بڑی اکثریت مزدور پیشہ ہے اور لیبر مارکیٹ میں ان ممالک کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔اس میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ سعودی ''بخاری رائس ریستورانوں'' میں کھانے کے لیے جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔یہ ریستوراں ترکمانستان سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن چلا رہے ہیں۔دوسری جانب یمنی ان مشہور ریستورانوں میں کام کرتے ہیں جہاں تلا ہو جگر فروخت کیا جاتا ہے اور سعودی اس کو ناشتے میں شوق سے کھاتے ہیں۔

سعودی شہریوں سمیت انیس ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد موبائل فونز اور ان کی متعلقہ چیزوں کی فروخت کی دکانوں ،شپنگ دفاتر، حجام کی دکانوں،کار ورکشاپس،ایکسچینج دفاتر اور بیکریوں میں کام کرتی ہے۔ ان ممالک میں سعودی عرب کے علاوہ پاکستان ،بھارت ،ترکی ،فلسطین ،اردن ،سوڈان ،مراکش ،تیونس ،الجزائر،یمن ،مصر ،شام ،لبنان،انڈونیشیا ،افغانستان ،بنگلہ دیش ،ترکمانستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

اس سروے میں کل ساٹھ محققین نے حصہ لیا تھا اور انھوں نے جدہ ،الریاض ،مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت دس سعودی شہروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔اس میں پیشوں اور ان سے وابستہ افراد کی شہریت کے حوالے سے سوال پوچھے گئے تھے۔