آسٹریلیا میں زیر تعلیم سعودی طالبہ کی اہم سائنسی دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

آسٹریلیا میں زیر تعلیم ایک سعودی طالبہ نے زرعی سائنس کے شعبے میں ایک اہم دریافت کی ہے اور انھوں نے زرعی فصلوں میں قدرتی کھاد کے طور پر استعمال ہونے والے گوبر اور فضلات سے اسکاریس انڈے بازیاب کرنے کا طریقہ ایجاد کر لیا ہے۔

سعودی طالبہ بسمہ آشور خلاف آسٹریلیا کے شہر میلبورن سے حیاتیاتی تحقیق کے ادارے آر ایم آئی ٹی سے بائیوٹیکنالوجی اور بیالوجی میں پی ایچ ڈی کررہی ہیں۔انھوں نے اپنے تحقیقی کام کو انٹرنیشنل واٹر ایسوسی ایشن کے جرنل میں شائع کرایا ہے۔

اسکاریس یا ایسکاریڈ ایک ایسا طفیلیہ (پیراسائٹ) کیڑا ہے جو عام طور جانوروں کی آنتوں میں پایا جاتا ہے۔ان کے انڈے فضلے کے ساتھ خارج ہونے کے بعد زمین میں چلے جاتے ہیں اور جن پودوں پر یہ انڈے پائے جاتے ہیں،انھیں استعمال کرنے والا کوئی بھی جاندار متاثر ہوسکتا ہے۔ان کیڑوں کے حملوں سے متاثرہ جانداروں میں وقوفی عمل متاثر ہوسکتا ہے اور اگر حملہ آنت پر ہو تو یہ مہلک ثابت ہوسکتا ہے۔

طالبہ خلاف کے سپروائزر اینڈی بال نے اس تحقیق پر کہا ہے کہ ''یہ ایک اہم کامیابی ہے اور بسمہ کی تحقیقی مہارت کا بھی ثبوت ہے''۔آسٹریلیا میں متعیّن سعودی عرب کے کلچرل اتاشی نے بسمہ خلاف کو ٹیلی فون کرکے ان کے تحقیقی کام پر مبارک باد دی ہے۔

آسٹریلیا کے ساؤتھ ایسٹ واٹر اور اے ایل ایس واٹر ریسورس گروپ اور سعودی عرب کی جامعہ طائف کے ڈاکٹر طارق الطلحی کی سربراہی میں قائم ریسرچ گروپ سمیت متعدد جامعات اور کمپنیوں نے اس منصوبے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور اس تحقیقی دریافت کو تسلیم کیا ہے۔انھوں نے مستقبل میں سعودی طالبہ کے ساتھ ان کے تحقیقی منصوبوں میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں