.

ڈونلڈ ٹرمپ کو ’نیو ہٹلر‘ کا لقب مل گیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بدنام ہوئے تو کیا نام نہ ہوگا کے مصداق ان دنوں #امریکا کے متنازع سیاست دان اور صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل #ڈونلڈ_ٹرمپ مشہور تو بہت ہوئے مگر انہوں نے مسلمانوں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی مخالفت مول لیتے ہوئے اپنی بدنامی کا خوب سامان کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں امریکا میں ’نئے ہٹلر‘ کا خطاب مل گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی تقاریر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلمان اور اسلام دشمن آشکار کردی ہے۔ امریکا سمیت دنیا بھر میں مسلمانوں اور غیر مسلموں سب کی جانب سے ان کے بیانات کی مذمت جاری ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ عموما ایسے سیاست دانوں کی حمایت میں کھڑے رہتے ہیں مگر اس بار ذرایع ابلاغ کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ’ہسٹیریا‘ کا مریض قرار دیا۔

اسلام فوبیا کے شکار اور انتہا پسند امریکیوں کے ترجمان بننے کے لیے کوشاں ڈونلڈ ٹرمپ نےاپنی ایک حالیہ تقریر میں کہا تھا کہ ان کے ملک میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس لیے میں حکومت سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ امریکا میں مسلمانوں کا داخلہ بند کردے۔ ان کے اس اشتعال انگیز اور منافرت پرمبنی بیان کے بعد انہیں نسل پرست، فاشی، نئے مسولینی، صرف دولت مند مسلمانوں کے دوست اور ’نئے ہٹلر‘ جیسے القابات دیے جا رہے ہیں۔

فلاڈیلفیا سے شائع ہونے والے اخبار’ڈیلی نیوز‘ نے صفحہ اول کی ہیڈ لائن پر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ’نیو ہٹلر‘ کا لقب دیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نازی فوجی کے نسل پرست ’فوھرور‘ اور ہٹلر سے کافی مشابہت رکھتے ہیں۔ ہٹلر اور فوھررو بھی ایسے ہی خیالات رکھتے تھے۔

اخبار ٹیلی گراف نے اپنے ایک مضمون میں ٹرمپ کے بیانات کی مذمت کے بعد ہٹلر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویر یکجا کی ہیں اورلکھا ہے کہ ’ان دنوں میں کون اچھا ہے، ہٹلر یا ٹرمپ، یا دونوں ایک ہی جیسے ہیں‘۔

امریکی حکومت کی جانب سے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے متنازع بیانات کے بعد وہ صدارتی انتخابات کے لیے نا اہل ہوسکتے ہیں۔ وائیٹ ہائوس کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ مسٹر ٹرمپ صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شامل ہونے کے لیے معاشرے میں زہراگل رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پرمبنی بیان پہلی بار سمانے نہیں آیا بلکہ وہ حالیہ چند ماہ کے دوران تواتر کے ساتھ ایسے ہی بیانات دینے میں مشہور ہوئے ہیں۔ اپنی ایک حالیہ تقریر میں انہوں نے الزام عاید کیا تھا کہ نائن الیون کے واقعے کی خوشی امریکا میں مسلمانوں نے جشن منایا تھا ۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ صدر بنے تو امریکا میں مسلمانوں کی تمام مساجد بند کردی جائیں گی۔