.

سعودی خواتین کا پہلی مرتبہ حق رائے دہی کا استعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں میونسپل کونسل کی نشستوں کے لیے آج بزروز ہفتہ ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ ان انتخابات میں خواتین پہلی مرتبہ اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گی۔

کل خواتین امیدواروں کی تعداد 978 ہے جبکہ 5938 مرد امیدوار ان انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔انتخابی مہم کے دوران خواتین امیدواروں کو براہ راست جلسہ منعقد کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ حکام کے مطابق کل خواتین رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ایک لاکھ 30 ہزار ہے۔ یہ تعداد مرد ووٹروں کے مقابلے میں کہیں گنا کم ہے۔ مرد ووٹروں کی تعداد 13 لاکھ 50 ہزار ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں انتخابات بذات خود ایک نایاب عمل ہے۔ ہفتہ کو ہونے والے انتخابات سعودی عرب کی تاریخ کے تیسرے انتخابات ہیں۔ سنہ 1965 سے سنہ 2005 کے درمیان 40 سال تک انتخابات منعقد نہیں ہوئے تھے۔

خواتین کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ مرحوم سعودی بادشاہ عبداللہ نے کیا تھا اور ان کے اس فیصلے کو ان کی سیاسی وراثت کے اہم حصے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ سعودی عرب میں خواتین نے ’ایسے مواقعوں پر ثابت کیا ہے کہ ان کی رائے اور مشورے درست ہیں۔‘ جنوری میں ان کے انتقال سے قبل انھوں نے ملک کی اعلیٰ مشاورتی شوریٰ کونسل میں 30 خواتین کو تعینات کیا تھا۔

خیال رہے کہ حالیہ انتخابات میں 2100 کونسل نشستیں ہیں جبکہ مزید 1050 نشستیں بادشاہ کی منظوری کے بعد تعینات کی جائیں گی۔ ان انتخابات کے نتائج کا اعلان ہفتہ کی شب تک کیے جانے کی امید ہے۔