خلیفہ امین کے قتل سے عرب بالادستی قصہ پارینہ بنی: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی صدر کے مشیر برائے کمیونٹیز اور دینی اقلیت علی یونسی نے کہا ہے "کہ دور حاضر میں ہمارے سامنے رونما ہونے والے زیادہ تر واقعات دراصل اسلامی دنیا میں عرب بالا دستی کو بحال کرنے کوششوں کا نتیجہ ہیں"۔ علامہ یونسی کے بقول داعش بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

علی یونسی نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز اثنی عشری شیعہ مذہب میں آٹھویں امام علی ابن موسی الرضا کے یوم وفات کے سلسلے میں منعقد ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ایرانی مشیر کے خطاب سے عرب مخالف عوامی شاعری کی یاد تازہ ہو گئی۔

ڈاکٹر حسن روحانی کے مشیر نے ایرانی دارلحکومت تہران میں فاطمہ الزھراء امام بارگاہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا "کہ داعش کی تحریک اسلامی دنیا کو کنٹرول کرنے کا خواب دیکھنے والے عربوں کی پیدا کردہ ہے تاکہ وہ فارس اور ترکوں کے مقابلے میں اپنے احساس کمتری پر قابو پا سکیں۔" علی یونسی کا مزید کہنا تھا "کہ داعش اسلامی نہیں بلکہ عرب خلافت کی بحالی چاہتی ہے، اس مقصد کے حصول کے لئے وہ ہر طرح کا جرم کرنے سے نہیں چوکتی۔"

اس سے پہلے مارچ میں علی یونسی نے ایک گرجدار بیان میں بغداد کو ایران کا دارلحکومت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی کی طرح ایران آج امپریل ازم کی مثال ہے اور بغداد اس کا عظیم ریاست کا صدر مقام ہے۔ اس بیان میں ان کا اشارہ قبل از اسلام ساسانین فارس کی جانب تھا، جس نے عراق کو زیر نگین کرتے ہوئے المدائن کو اپنا پایہ تخت قرار دیا تھا۔

عرب دور اقتدار پر کڑے وار کا ذکر کرتے ہوئے علامہ یونسی نے کہا کہ 'ظلم کے خلاف اٹھنے والی ہر انقلابی آواز ایران سے اٹھی۔' ان کا مزید کہا تھا کہ ایرانیوں نے جب المامون کے بھائی [الامین] کو قتل کیا تو اس کے بعد عربوں سے قیادت کا منصب ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھن گیا۔

اس امر کا اظہار کر کے ایرانی صدر کے مشیر نے اموی دور کی اس خفیہ تحریک کی یاد تازہ کر دی، جس نے عباسی عہد میں عوامی سطح پر پھیلاؤ دیکھا۔ یہ تحریک اسلام کی اشاعت اور دیگر فتوحات میں عربوں کی قدر ومنزلت کو کم کرتی اور ایک وقت میں عجم کو عربوں پر فوقیت دلوانے میں کامیاب رہی۔

علامہ علی یونسی کا جوش خطابت یہیں نہیں تھما بلکہ انہوں نے یہ تاریخی حقیقت کے برعکس یہ دعوی کرنے میں بھی کسی تامل کا مظاہرہ نہیں کیا کہ "ایران اور اسلام کا نام الامام الرضا کا مرہون منت ہے اگر وہ نہ ہوتے تو یہ دونوں بھی نہ ہوتے۔"

ڈاکٹر روحانی کے مشیر متذکرہ دعوی کرتے ہوئے بھول گئے کہ الامام الرضا اصلا ہاشمی خاندان سے تعلق رکھنے والے قریشی عرب تھے۔ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی نسل سے علی ابن ابی طالب کے آٹھویں پوتے تھے۔ ایرانی تسلم کرتے ہیں کہ الامام الرضا مشرقی ایران کے شہر مشھد میں 'الامام الغریب' کے مقام پر آسودہ خاک ہیں کیونکہ جس جگہ وہ مدفون ہیں وہ ان کا عرب ہوم ٹاؤن نہیں ہے۔

ایک دوسری پیش رفت میں ایران کے سابق وزیر سلامتی اور سراغرسانی علی یونسی نے ایرانی گورنری آذربائیجان میں ہونے والی کھیلوں میں ترکوں کی جانب سے الخلیج العربی کے نعروں پر شدید احتجاج کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں