.

دنیا کی بلند ترین عمارت 'برج الخلیفہ' کی سیر کیئجے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مُتحدہ عرب امارات کے عالمی تجارتی مرکز دبئی میں واقع ’’برج الخلیفہ‘‘ جاننے کا تجسس اس افراد کے ذہنوں میں ہمیشہ جاگزین رہتا ہے کہ جنہیں ان پرشکوہ عمارت براہ راست دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔

برج کی تعمیر اور اس میں مضمر خصوصیات اتنی ہمہ رنگ اور ہمہ جہت ہیں کہ دنیا کو ان سے روشناس کرانے کے لئے انتظامیہ نے ایک خصوصی ویب سائٹ ’’burjkhalifa.ae‘‘ قائم کر دی ہے۔ اس سال بھی برج الخلیفہ سے نئے سال کے کا استقبال روایتی جوش وخروش اور نئے انداز میں کرنے کی تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق برج الخلیفہ کی 160 منزلوں تک رسائی کے لیے 2909 زینے ہیں جہاں برج کی سیر کو آنے والے وفقے وفقے سے مختلف اقسام کی خوشبوئوں سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

اس مقصد کے لئے کل 18 مقامات پر الگ الگ خوشبوؤں کے احساس کے لیے عطریات کا چھڑکاؤ کیا جاتا ہے جو آنے والوں کو ایک منفرد اور خوش گوار احساس دلاتا ہے۔

برج الخلیفہ کی تعمیر کے دوران دنیا کی بڑی اور اونچی کرینوں کا استعمال کیا گیا۔ ایک کرین کا وزن 25 ٹن سے زیادہ تھا۔

برج الخلیفہ کرہ ارض پرعمودی شکل کا سب سے بڑا شہر ہے جس میں بہ یک وقت 10 ہزار افراد موجود رہتے ہیں۔

برج میں دنیا کی تیز ترین لفٹس نصب ہیں جو یہاں مقیم اور سیر کے لئے آنے والے شائقین کو 10 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے بلندی پر لیجانے میں مدد کرتی ہیں۔

برج الخلیفہ کی جن معلومات کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے ان میں اس کی 123 ویں منزل پر بنی لائبریری بھی شامل ہے۔

ٹاور کی چوٹی پر نصب ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے لیے انتباہی لائٹ ایک منٹ میں 40 مرتبہ ٹمٹماتی ہے۔

بُرج الخلیفہ کی زیر زمین منزل اور آخری منزل کے درجہ حرارت میں سات درجے سینٹی گریڈ کا فرق ہے۔ آخری منزل میں درجہ حرارت سات درجے سینٹی گریڈ کم ہے۔

ٹاور کی تعمیر میں استعمال ہونے والے ایلومینیم کا وزن دنیا کے سب سے بڑے A380 پانچ طیاروں کے برابر ہے۔

بُرج الخلیفہ کی تمام کھڑکیوں کی صفائی کے لیے 120 دن درکار ہوتے ہیں۔

سنہ 2014ء میں عمودی شکل میں ملبوسات فیشن شو اسی ٹاور میں منعقد کیا گیا۔

برج الخلیفہ سے غروب آفتاب کا منظر ایک دن میں دو بار دیکھا جا سکتا ہے۔غروب آفتاب کا پہلا منظر برج الخلیفہ کی پہلی منزل سے اور دوسرا منظر اس کی آخری منزل سے دیکھا جا سکتا ہے۔