.

سعودی عرب میں شادی کے خواہشمندوں کے لئے خوشخبری

نکاح کے لئے عدالتوں کے چکر ختم، امام صاحب تارک وطن کے گھر آئیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں شادی کے خواہش مند تارکین وطن کو اب نکاح کے لئے عدالتوں کے چکر لگانے کی ضرورت نہیں کیونکہ وزارت انصاف نے خصوصی نکاح خواں [ماذون] مقرر کر رہی ہے جو گھر جا کر شادی رجسٹر کرنے کے مجاز ہوں گے۔

وزارت اںصاف کے ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے بعد تارکین وطن کی شادی کے لئے عدالتی طریقہ کار منسوخ ہو جائے گا جس سے ان کی مشکلات میں کمی اور عدالت کا وقت بچے گا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ نکاح کی کارروائی پہلے بھی وزارت انصاف کے دائرہ کار میں نہیں آتی تھی۔

یہ فیصلہ سعودی عرب میں مقیم غیر ملکیوں کی شادیوں کی بڑھتی ہوئی شرح کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ دارلحکومت ریاض میں گذشتہ برس تارکین وطن کی 1044 شادیاں رجسٹر ہوئیں۔ یہ تعداد شہر میں اسی مدت کے دوران رجسٹر ہونے والی شادیوں کی 4٫7 فیصد بنتی ہے۔ اس کے بعد الاحساء شہر میں 267 جبکہ جازان میں 242 شادیاں رجسٹر ہوئیں۔

سعودی وزیر انصاف ولید السمانی نے تارکین وطن کی شادیوں کا قانونی عمل پورا کرنے میں نکاح خوان کے کردار کے حوالے سے قوانین میں ضروری تبدیلی کا حکم جاری کیا تھا۔