.

داعش 2015ء میں 14 فی صد علاقہ کھو بیٹھے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامی عراق وشام (داعش) 2015ء کے دوران اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سے قریباً چودہ فی صد کھو بیٹھا ہے جبکہ اس دوران شامی کردوں نے اپنے کنٹرول والے علاقوں کو تین گنا بڑھا لیا ہے۔

یہ بات امریکا میں قائم ایک تھنک ٹینک آئی ایچ ایس جین نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتائی ہے۔داعش کے جنگجو ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شام کے شہر تل ابیض ،عراق کے شمالی شہر تکریت اور بیجی آئیل ریفائنری پر اپنا قبضہ کھو بیٹھے ہیں۔

اس کے علاوہ داعش کا شام میں اپنے صدرمقام (دارالخلافہ) الرقہ اور عراق کے شمالی شہر موصل کے درمیان واقع مرکزی شاہراہ پر کنٹرول بھی برقرار نہیں رہا ہے جس سے ان کے لیے اپنے زیر قبضہ علاقوں تک سامان رسد پہنچانا مشکل ہوچکا ہے۔

آئی ایچ ایس کے مشرق وسطیٰ سے متعلق امور کے سینیر تجزیہ کار کولمب اسٹریک کا کہنا ہے کہ ''تل ابیض سرحدی گذرگاہ پر کنٹرول سے محرومی کے بعد داعش پر منفی مالی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔اس کے بعد حالیہ شدید فضائی حملوں کےنتیجے میں اس کی تیل کی پیداواری صلاحیت بھی متاثر ہوئی ہے''۔

اس تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ جنوری 2015ء میں داعش کا عراق اور شام کے قریبا 78000 مربع کلومیٹر علاقے پر قبضہ تھا جبکہ 14 دسمبر تک وہ اس میں 12800 مربع کلومیٹر علاقے سے محروم ہوگئے تھے۔

تاہم میدان جنگ میں ان شکستوں کے باوجود داعش نے اس سال کے دوران کچھ نمایاں کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں۔اس کے جنگجوؤں نے شام کے وسطی شہر تدمر (پلمائرا) اور عراق کے سب سے بڑے صوبے الانبار کے دارالحکومت الرمادی پر مئی میں قبضہ کر لیا تھا۔

لیکن شام کے وسطی اور عراق کے مغربی علاقوں میں داعش کو ان کامیابیوں کی قیمت بھی چکانا پڑی ہے اور شمال میں کرد جنگجوؤں نے ان سے شدید لڑائی کے بعد بہت سے علاقے ان سے واپس چھین لیے ہیں۔اس سال کے دوران شامی کردوں کے زیر قبضہ علاقوں میں 186 فی صد اضافہ ہوا ہے۔

کولمب اسٹریک کے بہ قول :''اس سے یہ بھی اشارہ ملتا ہے کہ داعش کے لیے کرد علاقوں پر قبضہ برقرار رکھنے کے بجائے شام اور عراق کے سنی آبادی والے علاقوں سے سرکاری فورسز اور عمل داروں کو نکال باہر کرنا زیادہ اہمیت کا حامل تھا اور کرد بظاہر داعش کی راہ میں حائل ہوئے ہیں''۔

داعش کے جنگجوؤں کو امریکا کی قیادت میں اتحاد کے تباہ کن فضائی حملوں اور اب حال ہی میں روس کی بمباری کے بعد سخت ہزیمت کا سامنا ہے۔بہت سے علاقوں میں عراقی فورسز اور شام کے باغی گروپوں نے بھی داعش کو لڑائی کے بعد پسپا کردیا ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران عراقی حکومت داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں سے چھے فی صد کو واپس لینے میں کامیاب ہوگئی ہے جبکہ عراقی کردوں نے ان سے دو فی صد علاقہ چھینا ہے۔

شام میں جاری جنگ کے کرداروں میں شامی حکومت کو گذشتہ ایک سال کے دوران اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔اس سے مزید 16 فی صد علاقے چھن گئے ہیں اور اس وقت اس کا قریباً تیس ہزار مربع کلو میٹر علاقے پر قبضہ برقرار رہ گیا ہے۔شام کے کل 185000 مربع کلومیٹر علاقے میں سے قریباً نصف پر داعش کا کنٹرول ہے اور باقی پر دوسرے باغی گروپوں کا قبضہ ہے۔