ٹرمپ کے دفتر کے باہر باجماعت نماز کا اہتمام

صدارتی امیدوار پر فاشزم اور نسل پرستی کو فروغ دینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں آئندہ سال ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ میں شمولیت کے لیے کوشاں متنازع سیاست دان ڈونلڈ ٹرمپ جہاں مسلمانوں کے خلاف اپنے اشتعال انگیز بیانات پر قائم ہیں وہاں امریکا میں ان کے خلاف مسلمان کمیونٹی کے غم وغصے میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

گذشتہ روز نیویارک میں واقع ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر دفتر کے باہر تقریباً 200 افراد نے ان کے اشتعال انگیز بیانات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مسٹر ٹرمپ کو ’’فاشسٹ‘‘ اور’’نسل پرست‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ بعد ازاں وہیں پر مظاہرین نے نماز باجماعت بھی ادا کی۔

’’ٹرمپ ٹاور‘‘ کے باہر جمع بیسیوں مسلمانوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’فاشزم نہیں چاہیے‘‘، فاشزم اور نفرت کے پرچارک ٹرمپ نہیں چاہیے‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔

مظاہرے میں شریک 34 سالہ خایمی غونزلیز نے کہا کہ ہم نے یہاں پر جولائی میں بھی احتجاج کیا تھا جب ڈونلڈ ٹرمپ نے میکسیکو کے شہریوں کو منشیات اسمگلر، مجرم اور عصمت ریزی کے مرتکب لوگ قرار دیا تھا۔ آج ہم ایک بار پھر یہاں جمع ہیں۔ اس مظاہرے میں ہم ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اشتعال انگیز بیان کی مذمت کر رہے ہیں۔

نیویارک میں واقع رئیل اسیٹٹ کے ٹائیکون ٹرمپ ٹاور کے باہر صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند 69 سالہ ڈونلڈ ٹرمپ کے مٹھی بھر حامیوں نے بھی مظاہرہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں