.

’داعش‘ عراقی ملکہ حُسن کے درپے کیوں ہو گئی؟

’شیماء قاسم جہاد بالنکاح کرے ورنہ لونڈی بنائیں گے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں چار عشروں بعد ملکہ حسن کےعرش پر متمکن ہونا عراقی دوشیزہ شیماء قاسم کے لیے اعزاز ہے مگر یہ اعزاز اس کے لیے ایک نئی مصیبت بھی بن سکتا ہے کیونکہ عراق و شام میں کشت وخون، تباہی وبربادی اور لونڈی غلام کا کلچر عام کرنے والی دولت اسلامی’داعش‘ کہلوانے والی تنظیم اب اس کے درپے ہو گئی ہے۔

سعودی اخبار’’عکاظ‘‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں عراق میں حسن کی ملکہ قرار پانے والی دوشیزہ شیماء قاسم کو نامعلوم فون نمبروں سے دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں جن میں اسے کہا گیا ہے کہ وہ ’’داعش‘‘ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے جنگجوؤں کے ساتھ خود کو ’ جہاد بالنکاح‘ کے لیے پیش کرے، ورنہ اسے لوںڈی بنا لیا جائے گا۔

رپورٹ کے مطابق ملکہ حسن کے مقابلے کا اہتمام کرنے والی عراق کمیٹی کے مقربین نے شیماء قاسم کو نامعلوم نمبروں سے موصول ہونے والی دھمکیوں کی تصدیق کی ہے۔ کمیٹی کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں سے شیماء کے انتخاب اور اس کی بہ طور عراق کی ملکہ حسن قرار پانے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

کمیٹی کا کہنا ہے کہ ملکہ حسن کے مقابلے کے انعقاد سے قبل بھی اس نوعیت کے دھمکی آمیز پیغامات ملتے رہے ہیں۔ گر شیماء ڈرنے والی ہوتی تو وہ پہلے ہی مقابلے سے دستبردار ہوجاتی۔ شیماء اور اس کی دیگر ساتھی دو شیزاؤں نے مقابلہ حسن میں حصہ لے کر سماج اور انسانیت کے دشمنوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ عراق کی ثقافت ابھی تک زندہ ہے اور فطری حسن کے اظہار کے میدان میں تمام تر مشکلات کے باوجود عراق کی نمائندگی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

خیال رہے کہ شیماء قاسم کو حال ہی میں سنہ 2015ء کی ملکہ حسن منتخب کیا گیا تھا۔ آخری مقابلے میں 8 دو شیزاؤں نے حصہ لیا۔ عراق میں سنہ 1972ء کے بعد یہ پہلا ملکی مقابلہ حسن قرار دیا جاتا ہے۔