.

مشاعر مقدسہ میں 40 لاکھ حجاج کو سمونے کا منصوبہ

مقدس مقامات کے توسیع منصوبے میں نجی شعبے کی شمولیت کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی حکومت مسجد حرام کی توسیع کےفقید المثال منصوبے کے بعد مشاعر مقدسہ [منیٰ، عرفات اور مزدلفہ] میں زیادہ سے زیادہ افراد کو سمونے کے ایک توسیعی منصوبے پر غور کر رہی ہے۔ اس منصوبے کی کی تکمیل کے بعد متذکرہ مقامات میں چالیس لاکھ حجاج بیک وقت قیام کر سکیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق مکہ مکرمہ کے ترقیاتی ادارے نے مشاعر مقدسہ کی توسیع کا پلان تیار کیا ہے، جس کی تکمیل کے بعد ان جگہوں پر ایک ہی وقت میں چار ملین سے زائد حاجیوں کے قیام کی گنجائش ہو گی۔ منصوبے پر کام شروع کرنے کے لیے اسے متعلقہ اداروں کو بھیج دیا گیا ہے، جس کی جلد ہی منظوری کا امکان ہے۔

رپورٹ کے مطابق زیرغور منصوبے میں منیٰ کے مقام پر نئے خیموں کی تنصیب، راستوں کو ہوادار بنانے اور باتھ رومز کا قیام شامل ہے۔ اس منصوبے میں مزدلفہ اور مقام عرفات کو بھی وسیع کیا جائے گا تاکہ ان میں ایک ہی وقت میں چالیس لاکھ حجاج کرام قیام کرسکیں۔

توسیع حرم کے متذکرہ منصوبہ پر گورنر مکہ اور خادم الحرمین الشریفین کے مشیر مرکزی حج کمیشن شہزادہ خالد الفیصل کی زیر نگرانی ایک ورکشاپ میں تفصیلی غور کیا گیا۔ ورکشاپ میں حج کے دوران فرائض انجام دینے والے 40 اداروں کے ارکان نے شرکت کی۔ جدہ کے ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہ ورکشاب میں نئے مالی سال کے لیے بجٹ کی منظوری پر خادم الحرمین الشریفین کو مبارک باد بھی پیش کی گئی۔

اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ خالد الفیصل کا کہنا تھا کہ بیت اللہ کی زیارت کے لیے آنے والے اللہ کے مہمانوں کو ہرممکن سہولت اور آسانی مہیا کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ توسیع مشاعر کا منصوبہ ہر قیمت پر شروع کیا جائے گا۔ توسیعی منصوبے میں پرائیویٹ سیکٹر کو بھی شمولیت کا موقع دیا جائے گا۔

شہزادہ خالد الفیصل کا کہنا تھا کہ حجاج کرام کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر مشاعر مقدسہ میں زیادہ سے زیادہ افراد کو سمونے کی گنجائش بڑھانے کہ اشدت ضرورت ہے اور اسی ضرورت کے پیش نظر توسیع کا نیا پلان ترتیب دیا گیا ہے۔ توسیعی منصوبے کی تکمیل کے بعد مشاعر میں ایک ہی وقت میں چالیس لاکھ سے زاید حجاج کرام کےقیام کی سہولت ہو گی۔