.

''تاشفین ملک کی ویزا فائل میں کسی انتباہ کا ذکر نہیں تھا''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی محکمہ خارجہ کے ویزا افسروں نے سان برنارڈینو میں فائرنگ کے واقعے میں مبینہ طور پر ملوّث تاشفین ملک کی فائل کا ہر پہلو سے جائزہ لیا تھا،انھیں کوئی ''قابل اعتراض'' معلومات نہیں ملی تھیں اور مقتولہ کو مکمل چھان بین کے بعد امریکا میں 2013ء میں داخلے کے لیے ویزا جاری کیا گیا تھا۔

محکمہ خارجہ کے ایک ذریعے نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا ہے کہ تاشفین ملک کی ویزا فائل میں کیونکہ کسی قسم کی کوئی قابل اعتراض معلومات نہیں تھیں۔اس لیے مزید تفصیلی تفتیش کے حکم یا ویزے کے اجراء کو روکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔

تاشفین ملک کو ویزے کے اجراء سے متعلق اس انکشاف کے بعد کانگریس میں یہ مطالبہ زور پکڑے گا کہ غیرملکیوں کے امریکا میں داخلے اور خاص طور پر جنگجوؤں کو ویزے کا اجراء روکنے کے لیے طریق کار سخت بنانے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی نژاد تاشفین ملک (منگیتر۔اہلیہ کے لیے مختص) ''کے۔1'' ویزے پر امریکا میں داخل ہوئی تھی۔اس وقت اس کی امریکی شہری سید فاروق سے منگنی ہوچکی تھی۔ان دونوں نے 2 دسمبر کو سان برنارڈینو میں فائرنگ کی تھی جس کے نتیجے میں چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔بعد میں یہ دونوں بھی پولیس کی جوابی کارروائی میں مارے گئے تھے۔

ذریعے کے مطابق ویزے کے اجراء کے لیے کسی فرد کی درخواست فائل میں ان تمام سکیورٹی چیکس کا ریکارڈ اور ان کے نتائج بھی شامل ہوتے ہیں۔تاشفین ملک کی محکمہ خارجہ میں موجود دستاویزات میں کسی میں بھی قسم کی کوئی منفی معلومات موجود نہیں ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے قونصلروں کو تاشفین ملک کو ملک میں داخلے کے لیے ویزا جاری کرنے پر تنقید کا سامنا ہے۔خاص طور پر جب سے ایوان نمائندگان کی عدالتی کمیٹی نے ان کی ویزا فائل جاری کی ہے،اس کے بعد سے یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا مقتولہ اور سید فاروق کی سعودی عرب کے شہر مکہ مکرمہ میں فی الواقع کوئی ملاقات ہوئی تھی یا نہیں کیونکہ ویزے کے لیے درخواست میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں وہاں ملاقات ہوئی تھی۔

ایک امریکی عہدے دار کے بہ قول سعودی عرب کی وزارت داخلہ نے امیگریشن ریکارڈ کے ذریعے اس امر کی تصدیق کی تھی کہ سید فاروق اور تاشفین ملک یکم اور 6 اکتوبر 2013ء کے درمیان سعودی عرب ہی میں موجود تھے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کے روز کانگریس کے تفتیش کاروں کو مقتولہ ملک کی مکمل ویزا فائل فراہم کی تھی۔وہ اس امر کی تحقیقات کررہے ہیں کہ وہ ویزے کے حصول اور امریکا میں داخلے میں کیسے کامیاب ہوئی تھی۔اس فائل میں تمام دستاویزات شامل ہیں۔اس ریکارڈ میں یہ چیزیں بھی شامل ہیں کہ تاشفین ملک کی فائل کو ویزا کے اجراء کی منظوری سے قبل کون سے سکیورٹی چیکس سے گزارا گیا تھا اور امریکی حکومت کے کس ڈیٹابیس کا جائزہ لیا گیا تھا۔

ایک ذریعے کے بہ قول ان سکیورٹی چیکس کا جائزہ لینے کے باوجود وہ یہ قضیہ حل نہیں کرسکے ہیں کہ تاشفین ملک اور سید فاروق کے درمیان اول الذکر کے امریکا آنے سے قبل کوئی بالمشافہ ملاقات بھی ہوئی تھی۔سید فاروق کا اپنی اہلیہ تاشفین ملک کے لیے جمع کرائی گئی ویزا درخواست میں ایک بیان بھی شامل ہے۔اس میں انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ان کے درمیان پہلے بالمشافہ ملاقات ہوئی تھی۔اس کے بعد 3 اکتوبر 2013ء کو ان کی حج کے دوران منگنی ہوگئی تھی۔

لیکن دستاویزات میں شامل معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تاشفین ملک کو سعودی عرب میں داخلے کے لیے 5 اکتوبر 2013ء تک ویزا نہیں ملا تھا۔فاروق کو حج کے لیے 16 ستمبر کو ویزا جاری کیا گیا تھا لیکن تاشفین ملک کے پاس حج ویزا نہیں تھا اور اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کو اس وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سےروک دیا گیا ہوگا۔اس دوران ہی اس کو امریکی ویزا جاری کرنے کی درخواست دی گئی تھی۔

امریکی تفتیش کار پہلے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ تاشفین ملک نے امریکا میں داخل ہونے سے قبل سوشل میڈیا پر ایک ذاتی پیغام میں اسلامی جہاد میں دل چسپی ظاہر کی تھی اور یہ پیغام عوامی نہ ہونے کی وجہ سے موجودہ طریق کار کے تحت حکام اس کا جائزہ نہیں لے سکتے تھے اور نہ وہ مقتولہ کو امریکی ویزے کے اجراء کو روکنے کے لیے کوئی سوال اٹھاسکتے تھے۔