.

نیتن یاہو کی اہلیہ سے قومی خزانہ ذاتی کاموں پر اڑانے پر پوچھ تاچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی اہلیہ سے پولیس نے سرکاری خزانے سے لی گئی رقوم کو ذاتی مکان کی تعمیر ومرمت اور تزئین وآرایش پر اڑانے کے الزام میں پوچھ تاچھ کی ہے۔

سارہ نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انھوں نے قومی خزانے سے رقوم کو قیصریہ میں واقع اپنے ذاتی ولا میں باغ کے فرنیچر کی خریداری اور بجلی کے نظام کو بہتر بنانے پر صرف کیا تھا۔

اسرائیلی اٹارنی جنرل یہودا وینسٹین نے جولائی میں ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا تھا اور یہ فیصلہ وزیراعظم کے سابق خانساماں مینی نفتالی کی جانب سے الزامات سامنے آنے کے بعد کیا گیا تھا۔اس خانساماں کو اسرائیلی وزیراعظم نے برطرف کردیا تھا۔

نیتن یاہو اور ان کی اہلیہ پر نفتالی نے یہ الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع وزیراعظم کے دفتر کے لیے خرید کیے گئے فرنیچر کو قیصریہ میں واقع اپنے مکان میں ذاتی استعمال کے لیے بھیج دیا تھا۔

انھوں نے مبینہ طور پر اپنے ایک خاندانی الیکٹریشن دوست اور لیکوڈ پارٹی کے سابق رکن آوی فہیمہ کو ٹیکس دہندگان کے خرچے پر بجلی کی مرمت کا نجی کام بھی دیا تھا اور اس کام کے جعلی بل تیار کیے گئے تھے۔

سارہ نیتن یاہو پر تیسرا الزام یہ ہے کہ انھوں نے 2009ء سے 2013ء کے درمیان سرکاری رہائش گاہ کی خالی بوتلوں کے عوض ملنے والے ایک ہزار ڈالرز اپنی جیب میں ڈال لیے تھے حالانکہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جانی چاہیے تھی۔

2013ء میں نیتن یاہو نے ایک ہزار ڈالرز قومی خزانے میں جمع کرا دیے تھے لیکن نفتالی کا کہنا ہے کہ یہ رقم چھے گنا زیادہ ہونی چاہیے۔اسرائیلی وزیراعظم اور ان کی اہلیہ پر مقامی میڈیا میں بھی ان الزامات کی تشہیر کی جارہی ہے لیکن نیتن یاہو نے ان الزامات کو اپنے خلاف ایک مذموم مہم کا حصہ قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔