.

’ما بعد خامنہ ای حکمت عملی پرغور کی ضرورت پر زور‘

قدامت پسند اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں: ایرانی عالم دین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#ایران کے اہل تشیع مسلک کے سرکردہ عالم دین، ماہرین کونسل کے وائس چیئرمین اور جامع #تہران کے امام نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی #خامنہ_ای کی وفات کے بعد ایرانی قیادت کے حوالے سے حکمت پرغور پر زور دیا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سرکردہ ایرانی رہ نما محمد علی موحدی کی جانب سے نئی حکمت عملی پرغور کی ضرورت پر مبنی بیان اس بات عکاس ہے کہ سرطان کے مریض خامنہ ای کی صحت کافی خراب ہے۔

ایرانی اصلاح پسندوں کی مقرب نیوز ایجنسی’’سحام نیوز‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ علامہ محمد علی موحدی کرمانی نے تہران میں سخت گیر ایرانی رہ نماؤں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ملک اس وقت خطرناک اور نہایت حساس دور سے گذر رہا ہے۔ موجودہ حالات بالخصوص اگلے ماہ فروری میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے موقع پر قدامت پسندوں کو اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا۔"

خیال رہے کہ علی موحدی کرمانی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب پہلے ہی ملک میں ایرانی سپریم لیڈر کی خرابی صحت اور ان کےممکنہ جانشین کے لیے مختلف سیاسی حلقوں میں بحث و تمحیص جاری ہے۔ سپریم لیڈر کے بعض مقربین نے ان کی خرابی صحت کے تاثر کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ مخالفین ان کے حوالے سے بلا جواز پروپیگنڈہ کررہے ہیں۔ تاہم خود خامنہ ای کافی عرصے سے پس منظر میں ہیں۔

خامنہ ای کی موجودگی کی ان کے جانشین کے لیے مہم چلانے والوں کو خبردار کرتے ہوئے ان کے ایک مقرب محمد تقی مصباح یزدی نے کہا تھا کہ مخالفین ولی الفقیہ کو سپریم لیڈر کے عہدے سے معزول کرنے کے لیے ریفرنڈم کرانے کی مہم چلا رہے ہیں مگر اس مہم کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔

قبل ازیں سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین پر غور کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی مرشد اعلیٰ کی وفات کے بعد ان کی متوقع جانشین کا تقرر کرے گی۔ رفسنجانی کے اس بیان پر خامنہ ای کے مقربین نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم لیڈر کو ان کے عہدے سے ہٹانے والوں کا انجام آیت اللہ حسین علی منتظری جیسا ہوگا۔ حسین منتظری ایران میں ولایت فقیہ کے انقلاب کے بانی آیت اللہ خمینی کے جانشین نامزد تھے مگر بعد ازاں انہیں معزول کرنے کے بعد گھر میں نذربند کردیا گیا تھا۔ ان کی موت گھر جبری نظربندی کے دوران ہوئی تھی۔