.

ایران میں سنی مبلغین اور کارکنوں کی پھانسی کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں اہل سنت مبلغین، مذہبی شخصیات اور سرگرم کارکنوں کے خلاف پھانسیوں کے معاملے نے پھر سے سر اٹھا لیا ہے ۔ گزشتہ ہفتے تہران کی اعلیٰ عدالت نے ایرانی صوبے کردستان سے تعلق رکھنے والے 27 مبلغین اور دینی علوم کے طلبہ کے خلاف سزائے موت کے فیصلے کی توثیق کردی تھی ۔ دارالحکومت تہران کے نزدیک کرج شہر کی جیل رجائی شہر میں قید ان افراد کو کسی بھی وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا ۔

اس سے قبل بھی حکام نے مارچ میں 6 سنی کرد ایرانی کارکنوں کو رجائی شہر جیل میں سزائے موت دے دی تھی ۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر اپیلوں کو بھی نظر انداز کرتے ہوئے سزا پر عمل درامد کیا گیا ۔ انقلابی ٹریبونل نے 2012ء میں "اللہ کے خلاف جنگ" اور "زمین میں فساد پھیلانے" کے الزام میں، حامد احمدی، کمال ملائی، جمشید دہقانی، جہانگیر دہقانی، صدیق محمدی اور ہادی حسینی کو سزائے موت سنائی تھی ۔

درایں اثنا انسانی حقوق کے ذرائع کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ یہ افراد پرامن مذہبی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے، ان سرگرمیوں میں ایرانی کردستان میں سنیوں کی مسجدوں میں مذہبی بیانوں کا انعقاد شامل ہے ۔تاہم حکام نے ان افراد پر کردستان صوبے میں ایرانی حکومت نواز ایک سنی مذہبی شخصیت کے قتل کا الزام تھوپ دیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق سزائے موت پانے والے افراد نے اس الزام کو یکسر مسترد کردیا تھا۔

حالیہ طور پر جن افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے، ان میں سنی کرد مبلغ شہرام احمدی بھی ہیں ۔ گزشتہ 6 برسوں سے گرفتار احمدی پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ ایک سلفی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے، اور ساتھ ہی ساتھ عقائد اور سیاسی افکار کے ذریعے حکومت مخالف نظریات کو فروغ دے رہا تھا، اس مقصد کے لیے اس نے بعض کتابیں اور سی ڈیز بھی فروخت کیں۔ شہرام کے ایک 17 سالہ بھائی کو بھی 2012ء میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے ایرانی ذرائع نے بتایا ہے کہ دوران حراست احمدی کو بدترین جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ ایرانی انٹیلجنس نے اس کے چھوٹے کم عمر بھائی کو پانچ دیگر قیدیوں کے ساتھ پھانسی دے دی۔

بے بنیاد الزامات پر سزائے موت

ایران میں انسانی حقوق کے کارکنوں کے زیر انتظام ایجنسی "ہرانا" کے مطابق، اعلیٰ عدالت نے نے گزشتہ منگل 29 دسمبر کو 27 سنی کارکنوں کے خلاف بے "بنیاد الزامات" کے تحت فیصلہ جاری کیا ۔ ان الزامات میں "حکومت کے خلاف پروپیگنڈة" ، "سلفی گروپوں کی رکنیت"، "زمین میں فساد" اور "اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ" شامل ہیں ۔

ایجنسی کے مطابق عدالت نے بعض گرفتار شدگان پر مسلح کارروائیوں میں شرکت کا الزام بھی عائد کیا تھا۔ مقدمات کی سماعت کے دوران ملزمان نے اس کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی تمام تر سرگرمیاں اہل سنت کے حوالے سے مذہبی اور تبلیغی مجالس میں شرکت تک محدود تھیں۔ ایرانی انٹیلجنس کی وزارت نے ان کارکنان، مبلغین اور دینی علوم کے طلبہ کو ایران کے مغرب میں واقع کردستان صوبے میں 2009 سے 2011 کے درمیان گرفتار کیا گیا۔

ان 27 قیدیوں کے نام یہ ہیں: 1- ﮐﺎﻭہ ﻭﯾسی 2- ﺑﻬﺮﻭﺯ ﺷﺎﻧﻈﺮی 3- ﻃﺎﻟﺐ ﻣﻠكی 4- ﺷﻬﺮﺍﻡ اﺣﻤﺪی 5- ﮐﺎﻭﻩ ﺷﺮﯾفی 6- ﺁﺭﺵ ﺷﺮﯾفی 7- ﻭﺭﯾﺎ ﻗﺎﺩﺭﯼ ﻓﺮﺩ 8- ﮐﯿﻮﺍﻥ ﻣؤﻣنی ﻓﺮﺩ 9- ﺑﺮﺯﺍﻥ ﻧﺼﺮالله ﺯﺍﺩه 10- ﻋﺎﻟﻢ ﺑﺮﻣﺎﺷتی 11- بوﺭﯾﺎ ﻣﺤﻤﺪی 12- أﺣﻤﺪ ﻧﺼﯿﺮی 13- ﺍﺩﺭﯾﺲ ﻧﻌمتی 14- ﻓﺮﺯﺍﺩ ﻫﻨﺮﺟﻮ 15- ﺷﺎﻫﻮ ﺍﺑﺮﺍﻫﯿمی 16- ﻣﺤﻤﺪ ﯾﺎﻭﺭ ﺭﺣﯿمی 17- ﺑﻬﻤﻦ ﺭﺣﯿمی 18- ﻣﺨﺘﺎﺭ ﺭﺣﯿمی 19- ﻣﺤﻤﺪ ﻏﺮﯾبی 20- ﻓﺮﺷﯿﺪ ﻧﺎﺻﺮی 21- ﻣﺤﻤﺪ ﮐﯿﻮﺍﻥ ﮐﺮﯾمی 22- اﻣﺠﺪ ﺻﺎﻟحی 23- ﺍوﻣﯿﺪ بيوند 24- ﻋلی ﻣﺠﺎﻫﺪی 25- ﺣﮑﻤﺖ ﺷﺮﯾفی 26- ﻋﻤﺮ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠهی 27- ﺍوﻣﯿﺪ ﻣﺤﻤﻮﺩی۔

ایسے وقت میں جب کہ سنی کارکنان ایران میں حکام پر مذہبی اور قومیتی ظلم وستم اور امتیاز کا الزام عائد کر رہے ہیں، ایران اپنے سرکاری پیغامات اور ذرائع ابلاغ میں یہ بات باور کرانے پر زور دے رہی ہے کہ وہ رنگ، نسل، زبان اور مسلک کی بنیاد پر اپنے شہریوں میں کوئی امتیاز نہیں برت رہی ۔

فرقہ وارانہ امتیاز

سرگرم سنی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں ظلم اور امتیازی سلوک کے خلاف آواز بلند کرنے کے سبب گرفتار کیا جاتا ہے ۔ ایران میں اہل سنت عام طور پر فرقہ وارانہ امتیاز کی شکایت کرتے ہیں۔ ساتھ ہی حکام پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ سنیوں کو سیاسی عمل سے دور رکھا جاتا ہے ، ملکی امور کی انتظامیہ میں شرکت سے روکا جاتا ہے ، اپنے دینی فرائض کی انجام دہی سے منع کیا جاتا ہے اور ایرانی دارالحکومت میں سنیوں کو اپنی مسجد تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ۔ جولائی کے مہینے میں تہران کی بلدیہ نے سیکورٹی فورسز کی مدد سے دارالحکومت میں اہل سنت کے واحد مصلّے (اجتماعی نماز کی جگہ) کو منہدم کردیا تھا ۔ اس اقدام کے سبب سنی حلقوں کے بیچ ردعمل کی شدید لہر دوڑا گئی تھی ۔

ایران کی کل آبادی میں 20 سے 25 فی صد سنیوں پر مشتمل ہے، جو تعداد میں تقریبا 1.5 کروڑ سے 1.7 کروڑ افراد بنتے ہیں ۔ یہ سب غیر سرکاری اعداد وشمار کے مطابق ہیں، اس لیے کہ ایرانی حکام ایسے کسی بھی اعداد وشمار کو جاری کرنے سے منع کرتے ہیں جن سے ملک میں مسلکی اور نسلی تقسیم کا اظہار ہو، اس کے علاوہ عام شماریات میں بھی مسلک اور قومیت کا اندراج نہیں کیا جاتا ہے۔

ایران میں سنیوں کی اکثریت جن صوبوں میں پائی جاتی ہے ان میں صوبہ کردستان (مغرب میں)، صوبہ بلوچستان (جنوب مشرق میں)، صوبہ چولستان (شمال مشرق میں) کے علاوہ خلیج عربی پر پھیلے ہوئے ساحلی صوبے شامل ہیں ۔ دوسری جانب اہل سنت اقلیت کی شکل میں صوبہ مغربی آذربائیجان (شمال مغرب میں)، صوبہ عربستان (اھواز – جنوب مغرب میں)، صوبہ خراسان (شمال مشرق میں) اور صوبہ جیلان (شمالی علاقے طالش) میں پائے جاتے ہیں۔

سنیوں کی پھانسیوں سے بھرپور تاریخ

- نومبر 2014 میں سنی بلوچی اقلیت سے تعلق رکھنے والے دو بھائیوں وحید شاہ بخش (22سالہ) اور محمود شاہ بخش (23سالہ) کو زاہدان کی سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی ۔ ان پر "اللہ اور رسول سے جنگ اور قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے" کے الزامات تھے ۔ انسانی حقوق کی ایرانی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایرانی انٹیلجنس نے دونوں بھائیوں کو مختلف قسم کے جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا تاکہ من گھڑت اعترافات کے ذریعے بعد ازاں دونوں کو موت کے گھاٹ اتارا جاسکے۔

- جولائی 2014 میں حکام نے زاہدان کی سینٹرل جیل میں بلوچی کارکن یاسین کرد کو 5 برس قید میں رکھنے کے بعد پھانسی دے دی ۔ اس پر "اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ" کا الزام عاید کیا گیا ۔ یاسین وہ اکیلا کارکن تھا جس نے بلوچستان صوبے میں ایرانی ظلم وستم کے خلاف آواز اٹھائی، اور اسی سبب وہ ایرانی انٹیلجنس کے ہاتھوں گرفتار کرلیا گیا۔ یہ ادارہ ان بلوچی کارکنان کے تعاقب کا ذمہ دار ہے جو صوبے میں اپنے شہری ، سیاسی اور مذہبی حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ ایرانی حکام نے 2013 میں حبیب اللہ ریگی کو موت کے گھاٹ اتارا ۔ یہ حبیب اللہ سنی تنظیم "جند اللہ" کے سربراہ عبدالمالک ریگی کا بھائی تھا، عبدالمالک کو جون 2010 میں حکام نے پھانسی پر چڑھا دیا تھا۔

- عبدالملک ریگی کو دیگر 15 سنیوں کے ساتھ 26 اکتوبر 2013 کو زاہدان کی جیل میں پھانسی دی گئی ۔ ایرانی حکومت نے ان افراد پر سراوان میں سرحدی محفافظین کے قتل کا الزام عاید کیا تھا ۔ انسانی حققوق کے ایرانی کارکنان نے اس الزام کا پول کھولتے ہوئے بتایا کہ جس وقت قتل کا واقعہ رونما ہوا تو اس وقت موت کی سزا پانے والے یہ ملزمان جیل میں تھے ۔ سزائے موت پانے والوں میں 8 افراد پر "اللہ کے خلاف جنگ" اور "زمین میں فساد پھیلانے" کے الزامات کے تحت فرد فرم عاید کی گئی۔

عبدالملک نے اپنی یادداشتوں میں تحریر کیا کہ : انہوں نے میرے پاؤں کے ناخن اکھاڑ ڈالے، مجھے بجلی کے جھٹکے دیے گئے ، مجھے تاروں سے پیٹا اور نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا، وہ جب بھی مجھے پوچھ گچھ کے لیے لے جاتے تو ہمیشہ لاتوں اور گھونسوں کا استعمال کرتے ۔ یہ بات ایران میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے کارکنان نامی ایک تنظیم نے عبدالملک کے حوالے سے بتائی۔

علاوہ ازیں ایران نے 27 دسمبر 2012 کو اہل سنت والجماعت کے ایک خطیب اصغر رحیمی کو غزل حصار نامی جیل میں پھانسی دی ۔ رحیمی پر جس کو مختلف طریقوں سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، قومی سلامتی کے خلاف کام کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔ اس کے ساتھ 6 دیگر افراد کو بھی موت کے گھاٹ اتارا گیا جن میں رحیمی کا بھائی بہنام بھی شامل تھا۔ اس دوران سزائے موت پانے والوں کو پھانسی سے قبل اپنے اہل خانہ کو دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کی نعشوں کو ان کے گھر والوں کے حوالے کیا گیا ۔ سنی مبلغ اصغر رحیمی کی گرفتاری کے وقت اس کی عمر صرف 18 برس تھی ۔ اس کے بعد دوران حراست اس کو پوری مدت سنندج جیل اور بعد ازاں رجائی جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

- اپریل 2009 میں ایرانی حکام نے شیخ خلیل اللہ زارعی اور شیخ حافظ صلاح الدین سیدی کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ دونوں افراد پر غیرقانونی طور سے اسلحہ رکھنے ، حکومت کی مخالفت اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کے الزامات عاید کیے گئے۔

ایران کے مختلف صوبوں میں اہل سنت کی درجنوں مذہبی شخصیات اور کارکنان کے خلاف پھانسیوں اور وحشیانہ ایذا رسانی کی کثیر کارروائیوں کی یہ ایک چھوٹی سی جھلک تھی۔ ان صوبوں میں زیادہ اہم بلوچستان، کردستان، اھواز ہیں۔ اس کے علاوہ سیکڑوں سنی اپنے عقیدے کی دعوت کی پاداش میں ابھی تک جیلوں میں سڑ رہے ہیں ، ان میں سے بہت سے لوگوں کو کسی بھی لمحے موت کے گھاٹ اتارے جانے کا خطرہ ہے۔