.

داعش کی پروپیگنڈا ویڈیو میں لندن کی نومسلمہ کا بیٹا نمودار

برطانوی وزیراعظم کے نام پیغام میں ''کافروں'' کو قتل کرنے کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے حال ہی میں ایک کم سن بچے کی ویڈیو جاری کی ہے۔اس میں وہ ''کافروں'' کو دھمکی دے رہا ہے کہ ہم انھیں بہت جلد ہلاک کرنے کے لیے آرہے ہیں''۔

اس کے نانا برطانوی شہری ہنری ڈئیر نے اس ویڈیو کو دیکھنے کے بعد کہا ہے کہ اس میں نمودار ہونے والا بچہ ان کا نواسہ عیسیٰ ہے۔وہ ان کی بیٹی خدیجہ کا بیٹا ہے۔وہ لندن کے جنوبی علاقے کی رہائشی تھی۔اس نے اٹھارہ سال کی عمر میں اسلام قبول کیا تھا اور چند سال قبل شام چلی گئی تھی۔

انھوں نے داعش کے فعل کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اس بچے کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔عیسیٰ کو داعش کے جنگجو اس سے پہلے بھی اپنی پروپیگنڈا ویڈیوز میں استعمال کر چکے ہیں۔اس سے پہلے اس کی اس کی والدہ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک تصویر پوسٹ کی گئی تھی۔اس میں وہ اے کے 47 کلاشنکوف رائفل کے ساتھ نظر آرہا تھا۔

ہنری ڈئیر نے لندن کے جنوب مشرقی علاقے میں واقع اپنے گھر سے چینل 4 نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''میں اس سے لاتعلقی ظاہر نہیں کرسکتا۔یہ میرا نواسہ ہے۔میں اس کو اچھی طرح جانتا ہوں''۔انھوں نے اپنی بیٹی کی داعش میں شمولیت پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے ہمارے خاندان کی عزت کو بٹا لگایا ہے اور وہ اس سے فون پر بات بھی نہیں کرتے ہیں۔

داعش کی گیارہ منٹ کی یہ ویڈیو گذشتہ اتوار کو منظرعام پر آئی تھی۔اس میں اس بچے نے فوجی وردی پہن رکھی تھی اور انگریزی زبان میں خبردار کررہا تھا کہ ''ہم وہاں کافروں کو قتل کرنے جارہے ہیں''۔اب یہ معلوم نہیں کہ اس کا اشارہ کس جانب تھا۔

اس ویڈیو میں پانچ افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی اور اس میں نمودار ہونے والا نقاب پوش شخص برطانوی لب ولہجے میں گفتگو کررہا ہے اور''ڈیوڈ کیمرون کے لیے پیغام میں برطانیہ میں حملوں کی دھمکی دے رہا ہے''۔

عیسیٰ کی والدہ خدیجہ ڈئیر کے والدین نائیجیریا سے تعلق رکھتے ہیں اور عیسائی ہیں۔وہ 1988ء میں نائیجیریا سے لندن منتقل ہوئے تھے۔اس نے 2014ء میں اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اپنے بیٹے عیسیٰ کی کلاشنکوف کے ساتھ تصویر پوسٹ کی تھی۔اس خاتون کے سوشل میڈیا کے مختلف اکاؤنٹس پر گاہے گاہے پیغامات پوسٹ کیے جاتے ہیں۔اس میں وہ دوسری خواتین کو بھی جنگ زدہ شام میں آنے کی دعوت دیتی رہتی ہے۔

خدیجہ کے عیسائی والدین کے بہ قول اس نے لندن میں کالج میں میڈیا اسٹڈیز ،فلم اسٹڈیز ،سوشیالوجی (سماجیات) اور سائیکالوجی (نفسیات) کے مضامین پڑھے تھے۔وہ عیسائی مذہب سے بہت گہرا لگاؤ رکھتی تھی اور ٹیلی ویژن پر فٹ بال میچز دیکھتی تھی لیکن اچانک اس کے رویّے میں تبدیلی آگئی اور اس نے اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد اسلام قبول کرنے کا اعلان کردیا اور اپنا نام گریس ڈئیر سے تبدیل کر کے خدیجہ رکھ لیا تھا۔شام پہنچنے کے بعد اس نے سویڈن سے تعلق رکھنے والے ایک جنگجو ابوبکر سے شادی کر لی تھی۔اس کے خاوند کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ گذشتہ مہینوں کے دوران شام میں جاری لڑائی میں مارا گیا تھا۔تاہم اس کی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔