.

داعش کا نیا جلاد: ہندو نژاد اور میڈیا پر جانا پہچانا چہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ انٹرنیٹ پر انگریزی میں ابو رمیثہ البریطانی کا نام ڈالیں گے تو آپ کے سامنے 30 برس سے زاید عمر کے ایک جوان کے متعلق، جو 4 بچوں کا باپ بھی ہے کئی تصاویر اور مضامین آ جائیں گے۔ بعض لوگوں نے "جلاد جان" کی یاد میں اسے داعش کے نئے جلاد کا نام دیا ہے۔ داعش کی طرف سے جاری آخری وڈیو میں اپنے برطانوی لہجے کے ساتھ 5 برطانوی باشندوں کو موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے دیکھا جانے والا یہ شخص، کئی ماہ قبل لندن سے متعدد بار میڈیا پر نمودار ہوچکا ہے۔

اس نئے داعشی کے ٹوئیٹر اور یوٹیوب پر بند اکاؤنٹس ہیں جب کہ اس نے ایک آرٹیکل بھی تحریر کیا جس میں "جلاد جون" کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے 40 صفحات پر مشتمل ایک زیر نظر کتابچہ بھی انٹرنیٹ پر پوسٹ کیا ہے۔

اس کتابچے میں جنگجوؤں کو مطلوبہ ریاست کی طرف کشش دلانے کی کوشش کی گئی ہے، ساتھ ہی "داعش ریاست" کے تمام امور پر گفتگو کی گئی ہے گویا کہ یہ سیاح کے لیے ایک قسم کی گائیڈ بک ہو۔ اس میں خوراک، ماحول، داعشی ریاست میں فراہم کردہ ٹکنالوجیز کے ساتھ ساتھ تعلیم، لوگ اور آمدورفت کے ذرائع پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔

جہاں تک اس نئے جلاد کے پس منظر کی بات ہے تو وہ واضح ہے، اور وہ متعدد ٹی وی انٹرویوز میں ظاہر ہوچکا ہے۔ اس کا نام سِردھاتھا ڈھار ہے، ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے ڈھار نے حال ہی میں اسلام قبول کیا ہے۔ سال 2014 تک وہ مشرقی لندن میں رہائش پذیر تھا۔

اس کی بہن کونیکا ڈھار نے برطانویوں کو موت کے گھاٹ اتارے جانے والی وڈیو کے منظر عام پر آنے کے فورا بعد اپنے بھائی کی شناخت کی تصدیق کردی تھی، مگر پھر اپنی "ہاں" سے مکرتے ہوئے یہ بیان دیا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ وڈیو میں نظر آنے والا شخص اس کا بھائی ہی ہے !

بعض ماہرین نے داعشی وڈیو میں ظاہر ہونے والی آواز کا ڈھار کی سابقہ وڈیوز کی آواز سے موازنہ کیا تو ان آوازوں کو بڑی حد ملتا جلتا پایا۔

"میڈیا پر جانا پہچانا چہرہ"

ابھی تک وڈیو میں ظاہر ہونے والے شخص کی شناخت کے حوالے سے سرکاری طور پر کوئی برطانوی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے،تاہم یہ بات یقینی ہے کہ "ڈھار" متعدد ٹی وی انٹرویوز میں کھل کر اپنے شدت پسند خیالات کا اظہار کرچکا ہے۔ بی بی سی پر ایک رپورٹ میں ڈھار اسلامی ریاست اور اس کے لیے جنگجوؤں کے سفر کا دفاع کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

اے بی سی نیوز چینل پر ایک دوسری رپورٹ میں "ابو رمیثہ" کو رات کے وقت لندن کی سڑکوں پر شدت پسندوں کے ایک گروپ کے ساتھ "اسلامی وعظ" کے سلسلے میں گشت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اس دوران وہ گناہوں سے روکنے کی بات کے ساتھ ساتھ اپنی نظر میں "شرعی" شہر کا خاکہ بھی کھینچ رہا ہے۔

وہ لندن میں کئی شدت پسند مظاہروں کے دوران برطانیہ میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اس کے علاوہ چینل فور، الجزیرہ انگلش اور دیگر چینلوں پر اس کے انٹرویوز بھی نشر ہوچکے ہیں۔

یقینا ابو رمیثہ ایک میڈیا پرسنالٹی ہے اور اس کی وابستگیوں سے ہر خاص و عام واقف ہے، پھر وہ 2014 میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ کس طرح شام فرار ہوگیا۔ جب کہ وہ ماضی میں پولیس کی حراست میں بھی رہ چکا ہے اور خیال ہے کہ زیر ِ نگرانی بھی رہا ہوگا۔ ستمبر میں اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے اس کو اشتعال انگیزی کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا تاہم ضمانت پر رہائی کے بعد وہ دسمبر میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

شامی شہر الرقہ میں بندوق اور نومولود کے ساتھ

وہ اپنی حاملہ بیوی اور بچوں کے ساتھ وہ بس میں پیرس فرار ہوا تاکہ وہاں سے شام کا رخ کرسکے۔ بعد ازاں 30 برس سے زاید عمر کا یہ جوان الرقہ شہر میں داعش کے ساتھ جڑ جانے میں کامیاب ہوگیا۔ وہاں ریکارڈ کی گئی ایک وڈیو ٹیپ میں ابو رمیثہ ایک ہاتھ میں اپنے نومولود بچے کو لیے ہوئے اور دوسرے ہاتھ میں بندوق تھامے ہوئے نظر آرہا ہے۔ اس امر کی تصدیق کے ساتھ کہ اس کا نیا بچہ "یقینی طور پر اسلامی ریاست (داعش) کے لیے ایک اضافہ ہے اور وہ برطانوی ہرگز نہیں ہوگا۔"

نومبر 2014 میں الرقہ شہر میں اپنے شیرخوار نومولود کے ساتھ تصاویر میں ابو رمیثہ اس بات پر فخر کررہا ہے کہ اس کا بیٹا "داعش کی ریاست" میں پیدا ہوا۔ اپنے آخری عکس بند پیغام میں اس نے برطانوی شہریوں کو جن کے درمیان اس نے کئی برس گزارے، قتل کی دھمکی بھی دی۔