.

’دوران سفرآپ کا بیگ آپ کے ساتھ ساتھ چلے گا‘

کم عمر لبنانی طلباء کا حیرت انگیز کارنامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دوران سفر مسافروں کے لیے اپنے ضروری سامان سے بھرے بیگ ہمیشہ اور ہرجگہ ایک مسئلہ رہے ہیں۔ بسا اوقات سفری بیگ سنھبالنے میں زیادہ مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، مگراب وہ وقت زیادہ دور نہیں جب سفری بیگ مسافروں کے ساتھ ساتھ خود ہی چلنا شروع ہو جائیں گے۔

لبنان کے کم سن آئی ٹی ماہرین نے’اسمارٹ سفری بیگ‘ تیار کیا ہے۔ اس بیگ کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خود کار طریقے سے اپنے مالک کے ساتھ ساتھ چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوں مالک کو اپنا بیگ اپنے کمر پر اٹھانے یا پکڑ کر گھیسٹنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ بیگ ایک سدھائے کتے کی طرح مالک کے ساتھ ساتھ چلتا رہے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ منفرد ایجاد لبنان سے تعلق رکھنے والے پانچ کم عمر طلباء کی محنت کا نتیجہ ہے۔ غالب امکان یہی ہے کہ حیران کن اسمارٹ بیگ کا سفر لبنان ہی سے شروع ہو گا مگر اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ لبنانی طلباء کے تجربات کی روشنی میں کوئی اور تحقیقی ادارہ یا ملک اس ایجاد پر زیادہ موثر طریقے سے کام شروع کرتے ہوئے اس میدان میں پہل کر لے۔

اسمارٹ ٹریول بیگ کی ایجاد مینول سفری بیگوں کے اختتام کا اعلان ہے۔ اگر اسمارٹ بیگ مارکیٹ میں آ جاتے ہیں تواب تک استعمال ہونے والے سفری بیگوں کی مانگ ختم ہو سکتی ہے کیونکہ ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور دیگر مقامات پر کوئی شخص بھاری بھرکم بیگ گھسیٹنے کی زحمت کے بجائے ایسے سفری بیگ خریدنے میں زیادہ دلچسپی لیں گےجو کسی جسمانی مشقت کے بناء اپنے مالک کے ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔

اسمارٹ بیگ کی تیاری میں مصروف ایک طالب علم رالف شلھوب نے بتایا کہ ان کے ذہن میں اسمارٹ بیگ کا تصور دبئی کے سفر کے دوران پیدا ہوا۔ ہم پانچ دوستوں نے مل کر ایک ایسا اسمارٹ بیگ تیار کرنے کا تجربہ کیا جو خود کار طریقے سے مسافروں کے ساتھ ساتھ چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ شلھوب کا کہنا تھا کہ ہم نے دبئی کے مصروف اڈے پر مسافروں کو اپنے بیگ گھسیٹتے دیکھا تو ان کی پریشانی دیکھ کر خیال آیا کہ کوئی ایسا طریقہ اپنایا جائے جس کی مدد سے وزنی سامان کے بیگوں کو گھسیٹنے کا تردد نہ کرنا پڑے۔

سنہ 2015ء کی بہترین ایجادات میں شامل

دلچسپ بات یہ ہے کہ اسمارٹ بیگ تیار کرنے والے لڑکوں کی عمریں 16 سال کے درمیان ہیں۔ اسمارٹ بیگ کی ایجاد نے انہیں غیرمعمولی شہرت دی۔ انہوں نے پچھلے سال کویت میں ایجادات کی بین الاقوامی فیڈریشن’’ایویا‘‘کے عالمی مقابلے میں بھی حصہ لیا اور اپنی منفرد ایجاد پیش کی۔ مقابلے میں 450 مختلف زیرتکمیل منصوبوں کی ایجادات پیش کی گئی تھیں، جس میں 30 ملکوں کے موجدین شریک تھے۔ لبنانی طالب علم مارک گریوس نے بتایا کہ کویت میں منعقدہ عالمی مقابلے میں ان کی ایجاد[اسمارٹ سفری بیگ] کو بہت پسند کیا گیا اور اسے سال 2015ء کی بہترین ایجادات میں شامل کرتے ہوئے انہیں گولڈ میڈل دیا گیا۔

بیگ کی تیاری میں جدید ترین مواصلاتی سسٹم نصب کیا گیا ہے جس میں ایک موبائل چپ بھی نصب ہے جو بیگ کے مالک بیگ کی جگہ کی نشاندہی میں مدد کرے گی۔ اسمارٹ بیگ میں اعلیٰ معیار کے کیمرے اور انفراریڈ سینسر نصب کرنے کے بعد بیگ میں ’’میرے پیچھے چلو‘‘ اور ’’رُکو‘‘ کے پیغامات ایڈ جسٹ ہوں گے۔ اس کے علاوہ ان بیگوں کو مینول کنٹرول کی بھی سہولت ہو گی۔