.

شامی فوجی کا بوٹ چومنے والی اینکر 'المنار' سے وابستہ

کوثر البشراوی نے شامی ٹی وی پروگرام میں فوجی بوٹ کو متنازع بوسہ دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے سرکاری ٹی وی پر بشار الاسد کےدفاع میں لڑنے والے نامعلوم فوجی اہلکارکے بوٹ کو آن ائر متنازع بوسہ دے کر شہرت حاصل کرنے والی خاتون اینکر اب لبنانی شیعہ ملیشیا کے ترجمان 'المنار' سیٹلائیٹ چینل پر پروگرام پیش کریں گی۔

حزب اللہ کے صحافتی ذرائع نے بتایا کہ کوثر البشراوی 'المنار' چینل پر اپنے نئے پروگرام میں پارٹی کا سیاسی نقطہ نظر بیان کیا کریں گی۔ متنازع اینکر پرسن نے اپنے نئے پروگرام کو دیرنیہ خواب کی تعبیر قرار دیا ہے۔

کوثرالبشراوی نے گزشتہ برس شامی ٹی وی کے ایک پروگرام کے دوران نامعلوم شامی فوجی کا بوٹ دیوانہ وار چومنا شروع کر دیا جس پر اسے ذرائع ابلاغ سمیت سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ فوجی بوٹ تھامے کوثر البشراوی پروگرام میں یہ الفاظ ادا کرتے سنی گئی کہ "مجھے اس بوٹ کے سوا اللہ سے کچھ اور تحفہ نہیں چاہیئے" اگلے ہی لمحے اس نے بوٹ کو چومنا شروع کر دیا اور گویا ہوئی کہ "اس فوجی بوٹ کے سواشام میں کوئی دوسری چیز امن نہیں لا سکتی"۔

کسی عرب خاتون نیوز اینکر کی جانب سے شامی فوجی کے بوٹ چومنے کے واقعہ کی شدید مذمت کی جا تی رہی کیونکہ یہی شامی فوج اپنے ہزاروں ہم وطنوں کو تہہ تیغ کر رہی ہے۔ ناقدین سمجھتے ہیں کہ البشراوی کا اقدام بشار الاسد کے ہاتھوں شامی عوام کے قتل کی توثیق ہے۔

یاد رہے کہ البشراوی کی حزب اللہ کے میڈیا ادارے سے وابستگی تنظیم کی جانب سے بشار الاسد حکومت کی حمایت میں عملی جنگ میں شرکت کے بعد سامنے آئی ہے۔ متذکرہ اینکر پرسن کا دعوی ہے کہ وہ 'نفرت کی فضا کم کرنے میں مدد کرے گی۔"

کوثر البشراوی نے' المنار' چینل سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے پیشگی ہی معاصر ذرائع ابلاغ پر کڑی تنقید کر دی ہے اور یمن جانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ہے۔