.

ایران میں نابالغ لڑکیاں سزائے موت کی منتظر... اور دنیا خاموش تماشائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی جیلوں میں درجنوں کم سن (نابالغ) لڑکیاں اپنے خلاف سزائے موت کے احکامات پر عمل درآمد کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔ ان میں بعض لڑکیوں کے جرائم ایسے ہیں جن پر وہ سزائے موت کی مستحق نہیں بنتی ہیں، مثلا چوری یا کسی اجنبی کے ساتھ گھر سے فرار وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ساری دنیا اس قتل عام کے لیے تماشائی بن کر کھڑی ہے جس کا ایرانی جیلوں میں موجود یہ نوجوان لڑکیاں انتظار کر رہی ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین نے ایرانی جیلوں میں گرفتار بعض کم سن لڑکیوں کی شناخت کر لی ہے، جب کہ بعض لڑکیوں کی تصاویر حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ان پر عائد الزامات بھی جان لیے ہیں۔

بین الاقوامی کنونشن، انسانی حقوق کے منشور اور انسانوں سے متعلق بین الاقوامی قانون بچوں کی سزائے موت پر (خواہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں)عمل درامد پر پابندی عائد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا میں بہت سی انسانی حقوق کی تنظیمیں درحقیقت سزائے موت کو ہی تنقید کا نشانہ بناتی ہیں اور دنیا کے ملکوں سے مطالبہ کرتی ہیں کہ ان پر عمل درآمد نہ کیا جائے۔

اس حوالے سے "العربیہ نیٹ" کی جانب سے لیے گئے جائزے کے مطابق شہری اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے کے آرٹیکل 6 (پیرا 5) میں کہا گیا ہے کہ " اٹھارہ سال سے کم عمر افراد کی جانب سے مرتکب جرائم پر سزائے موت کا فیصلہ سنانا جائز نہیں، اور حاملہ خواتین کے خلاف بھی اس سزا پر عمل درآمد نہیں ہو سکتا"، اور یہ ہے وہ تقریبا وہ ہی متن ہے جو متعدد بین الاقوامی منشوروں اور معاہدوں میں موجود ہے، ان میں "بچوں کے حقوق کا معاہدہ" بھی شامل ہے جسے اقوام متحدہ نے 1990 میں منظور کیا تھا۔

"گارڈین" اخبار نے ایران میں سزائے موت کی منتظر کم سن لڑکیوں کی ڈراؤنی کہانیوں کو منظر عام پر لانے کی کوشش کی ہے۔ ان لڑکیوں میں 17 سالہ ماسہ بھی جو اپنی پھانسی کا انتظار کر رہی ہے۔ اس پر ایک نوجوان کے ساتھ (جس کے ساتھ اس کا محبت کا تعلق تھا) بھاگ جانے کا الزام تھا۔ ماسہ کے والد نے اس نوجوان کا رشتہ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اخبار کی جانب سے سامنے لایا گیا دوسرا کیس ایرانی لڑکی شقائق کا ہے جس کی عمر صرف 15 سال ہے۔ یہ لڑکی تہران میں ایک دکان پر مسلح حملے کے الزام میں ایک سال سے جیل کی ہوا کاٹ رہی ہے۔ شقائق اور اس کا دوست چوری کی غرض سے دکان میں داخل ہوئے تھے تاہم پولیس کے پہنچنے پر اس کا دوست فوری طور پر فرار ہو گیا اور وہ اکیلی گرفتار کر لی گئی۔ حکام نے شقائق کو بچی ہونے کے باوجود گرفتاری کے پورے ایک سال بعد اس کی دادی سے ملنے کی اجازت دی۔ رہی بات سزائے موت کی تو حکام کا ارادہ ہے کہ لڑکی جب اٹھارہ سال کی ہو جائے گی تب سزا پر عمل درآمد ہوگا۔ اس کی وجہ غالبا یہ ہی نظر آتی ہے کہ نابالغ لڑکی کو موت کے گھاٹ اتارے جانے سے عوامی حلقوں میں غیض وغضب کی لہر نہ دوڑ جائے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس نے جب جرم کا ارتکاب کیا تو وہ بچی ہی تھی۔

تیسرا کیس صرف 16 برس کی سوجاند نامی لڑکی کا ہے، اور یہ ایران میں سزائے موت کی منتظر لڑکیوں میں سب سے المناک صورت حال نظر آتی ہے۔ ایرانی پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا تو اتفاق سے اکیلی یہ لڑکی ہی وہاں موجود تھی۔ گھر سے تقریبا 250 کلوگرام منشیات برآمد ہوئیں جن میں کوکین اور ہیروئین شامل تھیں۔ اتنی بڑی مقدار میں منشیات کا کم سن لڑکی سے کوئی تعلق نہ تھا بلکہ یہ اس کے والد کی تھی۔ تاہم پولیس نے سوجاند کو گرفتار کر لیا اور بعد ازاں اس پر سزائے موت کا فیصلہ جاری ہوا اس وجہ سے کہ وہ گھر میں اکیلی تھی۔ باوجود اس امکان کے، کہ لڑکی کو معلوم ہی نہ تھا کہ اس کا والد منشیات کا کاروبار کرتا ہے۔

"گارڈین" اخبار نے ایران کی جیلوں میں عورتوں اور کم سن لڑکیوں کو درپیش سنگین حالات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ جہاں دو سال کی عمر تک ان خواتین کو اپنے بچوں کو پالنے کی اجازت ہوتی ہے، پھر اس کے بعد بچے کو جبری طور پر ماں سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ گرفتار شدگان خواتین میں ایک زہراء نامی لڑکی بھی ہے جس کی 14 برس کی عمر میں شادی ہو گئی تھی۔ جیل میں رہتے ہوئے اس نے اپنے دو بچوں کی پرورش کی۔ اس کی عمر 17 برس ہو چکی ہے اور وہ ابھی تک جیل میں ہے۔ اتنی مدت سے جیل جیل میں رہنے کی وجہ ایک موبائل فون چرانے کا الزام ہے۔

ایران کی جیلوں میں گرفتار کم سن لڑکیوں کے درمیان انتہائی دردناک کہانی کی حامل 13 سالہ خاطرہ بھی ہے۔ خاطرہ اپنے چچا کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد گھر سے بھاگ نکلی تھی۔ ایک ہفتے بعد اس کو تہران کے ایک پارک میں نوجوانوں کے گروپ نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ اس کے بعد مکمل طور پر درماندہ حالت کا شکار خاطرہ نے چاقو کے ذریعے خود کو نقصان پہنچایا تو پولیس نے اس کو حراست میں لے لیا اور بعد ازاں علاج کے بعد اس کو جیل بھیج دیا۔

ایران کی جیلوں میں کم سن لڑکیوں کے ساتھ بدترین سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ یہاں ان کو روزانہ دو مرتبہ سورج کی روشنی دیکھنے کے لیے باہر نکلنے کی اجازت ملتی ہے، ایک گھنٹہ صبح میں اور ایک گھنٹہ شام میں۔ اس کے علاوہ اپنا روز کا کھانا لینے کے لیے وہ گھنٹوں لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

واضح رہے کہ ایران کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جہاں دنیا میں سب سے زیادہ سزائے موت دی جاتی ہے۔ تاہم اسے ہر سال انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے نسبتا معمولی تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پر جہاں تک کم سن لڑکیوں کا معاملہ ہے تو یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسے حقائق اور معلومات کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ اس توقع کے ساتھ کہ گارڈین اخبار کو جن حالات کی آگاہی تک رسائی حاصل ہو سکی وہ ایران کی جیلوں میں قید کم سن لڑکیوں میں ایک محدود تعداد کے سوا کچھ نہیں ہے۔