.

سعودی سفارتخانے پر حملہ پاسداران انقلاب کا منصوبہ تھا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ذرائع ابلاغ نے پاسداران انقلاب کی جانب سے تہران میں واقع سعودی عرب کے سفارت خانے پر بلوائیوں کے ذریعے حملہ کرانے کی منظم منصوبہ بندی کا انکشاف کیا ہے اور بتایا ہے کہ ایک ہفتہ پیشتر تہران میں سعودی سفارت خانے پر حملہ پاسداران انقلاب کی طے شدہ سازش کا نتیجہ تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی اصلاح پسندوں کی مقرب سمجھی جانے والی نیوز ایجنسی ’’سحام نیوز‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے کی منصوبہ بندی دارالحکومت کی شمال مشرقی کالونی’’ شہید محلاتی العسکری‘‘ میں تیار کی گئی تھی جس میں پاسداران انقلاب کی ذیلی ملیشیا کے اہلکاروں نے شرکت کی تھی۔

اس انکشاف نے ایرانی حکومت کی دوغلی پالیسی اور درپردہ سازشوں کی حکمت عملی کا پردہ چاک کردیا ہے۔ کیونکہ تہران حکومت کی طرف سے سعودی عرب کے سفارت خانے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا تھا۔ ایرانی حکومت کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پر دھاوا بولنے والے افراد نے قانون ہاتھ میں لے کر ایک نہایت سنگین قدم اٹھایا ہے جس پرانہیں سخت سزا دی جائے گی۔

ایرانی نیوز ایجنسی نے سعودی سفارت خانے پر حملہ کرنے والے ایک نیم فوجی اہلکار کا ایک بیان نقل کیا ہے اور سیکیورٹی وجوہات کی بناء پراس کی شناخت ظاہرنہیں کی۔ اس کا کہنا ہے کہ باسیج ملیشیا کے اہلکار شہید مہتدی اڈے پر قائم ایک کانفرنس ہال میں جمع ہوئے جہاں پر انہوں نے سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

سحام نیوز کے مطابق باسیج فورس کے مذکورہ اڈے سے کچھ لوگ سعودی عرب کے سفارت خانے پر یلغار سے قبل فرمانیہ روڈ پر احتجاجی مظاہرے کے لیے بھیجے گئے۔ احتجاجی مظاہرہ کرنے والے تمام افراد بندوقوں اور دستی بموں سے بھی مسلح تھے۔ ان کے پاس بھاری مقدار میں آتش گیر مواد بھی تھا جس کی مدد سے انہوں نے سعودی عرب کے سفارت خانے کو آگ لگا دی تھی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سعودی عرب کے سفارت خانے پرحملے کے وقت بلوائیوں نے سفارت خانے کی املاک کی لوٹ مار کی۔ اگرچہ سفارت خانے کا عملہ اہم نوعیت کی دستاویزات اپنے ساتھ لے گیا تھا تاہم بلوائیوں نے وہاں موجود ریکارڈ بھی تلف کرنے اور اسے قبضے میں لینے کی کوشش کی۔ باسیج ملیشیا کے غنڈہ گرد سفارت خانے کی عمارت میں ایسے داخل ہوئے جیسے انہوں نے اسے فتح کرتے ہوئے اس میں موجود ہر شے کو مال غنیمت سمجھ رکھا ہے۔ انہوں نے سفارت خانے کے کمپیوٹر، موبائل فون اور دیگر سامان جنگ میں حاصل ہونے والا مال غنیمت سجھ کر لوٹا۔

خیال رہے کہ ’’شہید محلاتی‘‘ کالونی دارالحکومت تہران کے اہم ترین علاقے میں واقع ہے جس میں ایرانی فوج کے سینیر افسران، حکومتی عہدیداروں کے خاندان مقیم ہیں۔ دیگر کالونیوں کی نسبت اسے فول پروف سیکیورٹی مہیا کی گئی ہے اور کالونی میں داخل ہونے اور باہر جانے والوں کی سخت چیکنگ کی جاتی ہے۔