.

یہود مخالف تبصرے پر کویتی طالبہ کا یونیورسٹی سے اخراج

فرانسیسی جامعہ نے امیرہ جمعہ کے فیس بک تبصرے کو یہود دشمنی قرار دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی ایک اعلی درجے کی شہرت رکھنے والی یونی ورسٹی "Sciences Po" نے ایک کویتی طالبہ کو فیس بک پر اپنے خیالات کے اظہار کی وجہ سے یونی ورسٹی سے خارج کر دیا۔ یونی ورسٹی انتظامیہ کے نزدیک طالبہ کا تبصرہ یہود دشمنی پر مبنی تھا۔

کویتی طالبہ امیرہ جمعہ نے فیس بک پر ایک شخص کے ساتھ فلسطینیوں کے حوالے سے جاری بحث کے دوران لکھ دیا کہ یہودی تو "چوہے ہوتے ہیں جن کا کسی جگہ سے تعلق نہیں ہوتا ہے"۔ طالبہ نے مزید کہا کہ "میں فرانس کی کوئی مہاجر نہیں، میں کویت سے ہوں، میرا ملک تمہیں اور تمہارے والدین کو خرید کر اوون میں ڈال سکتا ہے"-

اس دوران 20 سالہ کویتی طالبہ امریکا میں فرانسیسی سفارت خانے کے ثقافتی شعبے میں تربیت حاصل کر رہی تھی۔ فرانسیسی وزارت خارجہ نے امیرہ جمعہ کو کام سے روک دیا کیوں کہ مذکورہ عبارتیں فرانس اور یورپ میں مجرمانہ عبارتیں سمجھی جاتی ہیں جن پر قانونی سزا کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔

بعد ازاں کویتی طالبہ نے اپنے الفاظ پر معذرت کرتے ہوئے غلطی کو تسلیم کرلیا اور کہا کہ وہ تبصرہ کرتے ہوئے غصے اور مایوسی کا شکار ہو گئی تھی۔ تاہم اس کے چند ماہ بعد فرانسیسی یونی ورسٹی کی ڈسپلنری کمیٹی نے امیرہ جمعہ کو ملک کے مؤقر ادارے سے خارج کر دیا۔ یونی ورسٹی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ جامعہ کی تاریخ میں کسی بھی طالب علم کو نکال دینے کا یہ پہلا فیصلہ ہے۔ اس سے قبل ڈسپلنری کمیٹی کا اقدام طلبہ کی سرزنش اور نوٹس جاری کرنے تک محدود رہا ہے۔

یونی ورسٹی نے ذرائع ابلاغ کو باور کرایا ہے کہ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران کویتی طالبہ امیرہ جمعہ کا رویہ "مثالی" رہا۔ ساتھ ہی انتظامیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس پورے عمل کے دوران وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکی۔