.

بشار-روس معاہدے کی خفیہ شق ماسکو نے آشکار کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی ذرائع ابلاغ نے بشار الاسد اور ماسکو حکومت کے درمیان معاہدے کی ایک ایسی شق کا انکشاف کیا ہے جس کا اس سے پہلے اعلان نہیں کیا گیا۔ جمعرات کے روز منظر عام پر آنے والی اس شق کے متن کے مطابق شام میں روسی فوجی طیاروں کے رہنے کی کوئی محدود مدت نہیں ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ بشار الاسد کے زیرصدارت شامی ریاست کا کوئی حق نہیں ہے کہ وہ روس سے ملک سے کوچ کرجانے کا مطالبہ کرے۔

روسی خبر رساں ایجنسی "طاس" کے مطابق یہ خفیہ شق روس اور شامی حکومت کے درمیان اس معاہدے میں شامل ہے جو گزشتہ اگست میں طے پایا تھا۔ تاہم ایجنسی نے ان وجوہات کا ذکر نہیں کیا جن کے سبب اس شق کو ذرائع ابلاغ کے سامنے نہیں پیش کیا گیا۔

اس دوران روسی سرکاری ایجنسی "نووسٹی" نے اس جانب اشارہ کیا ہے کہ "اگر فریقین میں سے کوئی ایک اس شق سے پیچھے ہٹنے کا ارادہ کرے گا تو اس کو تحریری طور پر دوسرے فریق کو آگاہ کرنا ہوگا، اور تحریری مطالبہ پیش کرنے کی صورت میں دوسرے فریق کے پاس معاہدے کا اطلاق ختم کرنے کے لیے ایک سال کی مہلت ہوگی"۔

واضح رہے کہ روس اور شامی حکومت کے درمیان معاہدے کی شقوں میں سے یہ بھی ہے کہ اختلافات کے خاتمے کے لیے یا "روسی فضائیہ کی کارروائیوں" کے سبب شامی "مفادات" کو نقصان پہنچنے کی صورت میں، شامی حکومت "کسی تیسرے فریق" کا سہارا لے سکتی ہے۔ یاد رہے شامی حکومت بین الاقوامی یا علاقائی مسائل کے حل کے لیے عمومی طور پر جس "تیسرے فریق" کی مدد لیتی ہے وہ روس ہی ہے۔ اسی وجہ سے بین الاقوامی قوانین کے ماہرین کا کہنا ہے کہ تیسرے فریق کا سہارا لینے والی شق صرف صفحے پر روشنائی کی مانند ہے۔

شام میں حکومت نے اب تک ایسی کسی شق کی موجودگی کا اعلان نہیں کیا ہے، اور ابھی تک اس نے بہت سے خفیہ شقوں پر پردہ ڈال رکھا ہے جن میں سے ایک گزشتہ روز منظر عام پر آ گئی۔

ماہرین کے مطابق بشار الاسد کا اکیلے ماسکو کا دورہ اور صدر پوتین سے ملاقات کرنا، اس کا مقصد معاہدے کی رازداری کو یقینی بنانا تھا۔ ذرائع کے نزدیک معاہدے کے افشا ہونے سے شامی حکومت کے صدر سے زیادہ روس کے مفادات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔