.

’النمرکی پھانسی کی مذمت، خود پر ذرا سی تنقید برداشت نہیں‘

قریبی عزیز نے سپریم لیڈرعلی خامنہ ای کے تضادات کا پردہ چاک کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں دہشت گردوں بالخصوص نمر النمر نامی باغی شیعہ لیڈر کو دی گئی سزائے موت پر جہاں ایک جانب ایرانی پیشواؤں نے پیالی میں طوفان اٹھا رکھا ہے وہیں تہران سرکار کے اس طرز عمل پر ایران کے اندر سے بھی کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قریبی عزیز نے حال ہی ان کے نام خط لکھا ہے جس میں خامنہ ای کی دوغلی پالیسی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ خامنہ ای کے ماموں اپنے مکتوب میں راقمطراز ہیں کہ "سعودی عرب میں نمر النمر کی پھانسی کی بڑے پیمانے پر مذمت کی جا رہی ہے مگر خود دوسروں کی تنقید کا ایک لفظ تک برداشت نہیں کر سکتے۔"

سپریم لیڈر کے ماموں حسین میردامادی نے اپنے بھانجے [علی خامنہ ای] کو بھیجے طویل مکتوب میں لکھا ہے "کہ ایران کی جیلیں حکومت پر تنقید کرنے والے سیاسی کارکنوِں، صحافیوں اور دیگر شہریوں سے بھری پڑی ہیں۔"

میردامادی نے اپنے مکتوب میں اصلاح پسند اپوزیشن رہ نماؤں میر حسین موسوی اور مہدی کروبی کی گھروں میں جبری نظر بندی پر بھی تنقید کی اور استفسار کیا کہ جبری نظر بندی کی سزا بھگتنے والوں میں کس کس نے ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے جس کی انہیں سنگین سزا دی جا رہی ہے؟۔

خامنہ ای کے ماموں نے ایران میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے سپریم لیڈر سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک میں ایسی مضر پالیسیوں اور خلاف قانون اقدامات کی روک تھام کرائیں کل کو جن کی تلافی نہ کی جا سکے۔

یہاں یہ امر بھی قابل ذکر رہے کہ خامنہ ای کے ماموں کا بیٹا سراج الدین میر دامادی صحافی، سیاسی کارکن اور اصلاح پسند رہ نما ہیں مگر وہ بھی حکومت کے زیرعتاب ہیں اور پچھلے دو برس سے پابند سلاسل ہیں۔

خامنہ ای کو ظالمانہ پالیسیوں پر اپنے ہی خاندان کی تنقید کا ایک ایسے وقت میں سامنا کرنا پڑا ہے جب سعودی عرب میں چند روز قبل سینتالیس دہشت گردوں کی سزائے موت پر تہران سیخ پا ہے۔ ایرانی رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای نے دہشت گردی میں ملوث مجرموں کو پھانسی دینے پر سعودی عرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور دھمکی دی کہ ریاض کی اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

خامنہ ای اور دوسرے ایرانی لیڈروں کے اشتعال انگیز بیانات کے بعد تہران میں سعودی عرب کے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر مشتعل ھجوم نے حملے کر کے انہیں نذر آتش کرنے کی گھناؤنی کوشش کی تھی جس کے رد عمل میں سعودی عرب نے تہران سے سفارتی تعلقات ختم کر لیے ہیں۔ سعودی عرب کی جانب سے ایران سے سفارتی تعلقات توڑنے کا اعلان کرتے ہی کئی دوسرے عرب ممالک سوڈان، جیبوتی اور جزائر القمر نے بھی ریاض کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایران سے اپنے سفیر واپس بلا لیے۔