.

گھربار،وطن چھن گیا،اب عزت وناموس بھی خطرےمیں!

’یورپ میں پناہ کی متلاشی خواتین کو منظم جنسی حملوں کا سامنا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں شام و عراق سمیت دوسرے ملکوں کی پناہ گزین خواتین کے حوالے سے چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ یورپ میں داخل ہونے والی خواتین کو دیگر مصائب کے ساتھ ساتھ جنسی تشدد جیسے حربوں کا بھی سامنا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق گروپ نے یورپی ملکوں کی سرحدوں میں داخل ہونے والی 40 خواتین کے بیانات حاصل کیے ہیں جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ یورپی ملکوں کی سرحدوں میں داخل ہونے کے دورانی یا اس کے بعد انہیں جنسی ہراسانی جیسے حملوں کا سامنا رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم کی جاری کردہ رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یورپی ملکوں میں داخل ہونے والی خواتین کو منظم جنسی حملوں، جنسی استحصال اور ہراسانی کا سامنا ہے۔ یورپ پہنچنے والی خواتین کو یہ خطرہ ہرقدم پر درپیش ہے کیونکہ جن خواتین کے بیانات حاصل کیے گئے ہیں وہ یورپ میں داخل ہونے اور اس کے بعد مختلف مراحل پر پہنچ چکی تھیں۔ غریب الوطن ہونے والی خواتین گھر بار لٹ جانے کے بعد اپنی عزت کو بھی غیرمحفوظ سمجھنے لگی ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس نے ناورے اور جرمنی پہنچنے والی جن چالیس خواتین کے بیانات قلم بند کیے ہیں وہ ترکی کے راستے یونان اور وہاں سے یورپی ملکوں میں داخل ہوئی تھیں۔ دوران سفر بعض خواتین کو اپنے ساتھ سفر کرنے والے پناہ گزین مردوں، کہیں سیکیورٹی اہلکاروں یا دوسرے حکومتی اہلکاروں کےدباؤ اور جنسی ہراسانی کا سامنا رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیانات قلم بند کرانے والی خواتین نے سفر کے دوران تمام پناہ گزین خواتین کی عزت وناموس کودرپیش خطرات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

انسانی حقوق گروپ سے بات کرنے والی ایک عراقی خاتون نے بتایا کہ جرمنی پہنچنے پرایک سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک سیکیورٹی اہلکارنے اسے کہا کہ تم کچھ وقت تنہائی میں میرے ساتھ گذارو تو میں تمہیں اس کے بدلے میں کپڑے مہیا کرسکتا ہوں۔

خواتین کا کہنا ہے جو عورتیں اپنے کم عمر بچوں یا بچیوں کے ہمراہ سفر کرتی ہیں۔ ان کے ہمراہ گھر کا کوئی بڑا مرد نہیں ہوتا ان کی عزت و ناموس زیادہ خطرے میں ہے۔ خاص طورپر ایسی عورتیں یونان، کروشیا اور آسٹریا جیسے ملکوں میں جنسی تشدد کے زیادہ حملوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی کراسز سی کی ایک خاتون عہدیدار تیرانا حسن نے بتایا کہ عراق اور شام چھوڑنے والی خواتین نے اپنے بچوں کی خاطر سب کچھ قربان کردیا ہے، لیکن انہیں یہ اندازہ نہ تھا کہ اس سفر میں ان کی عزتیں بھی اسی طرح خطرے میں رہیں گی۔ وہ شام اور عراق میں تشدد کے ایک حربے سے بچ گئیں مگرانہیں یورپی ملکوں میں جنسی تشدد جیسے ایک نئے حربے کا سامنا ہے۔ اگران خواتین کو غیرمعمولی تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا تو ان کی عزت وناموس کے ساتھ ان کی زندگیاں بھی خطرے میں رہیں گی۔