.

دنیا بھر میں ایرانی دہشت گردی کی تصویری رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار کا کہنا ہے کہ 1979 میں انقلاب کے بعد سے ایران کا ریکارڈ خطے کے ممالک میں مسائل، اشتعال اور شورشیں پھیلانے سے بھرا ہوا ہے، جس کا مقصد ان ملکوں میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ اس سلسلے میں ایران نے تمام بین الاقوامی قوانین، معاہدوں اور اخلاقی اصولوں کو دیوار پر دے مارا ہے۔ ایران کی دشمنانہ پالیسیوں کے سبب سعودی عرب کو درپیش سنگین مسائل کے باوجود، مملکت اس تمام عرصے میں خود کو مسلسل قابو میں رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا رہی۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) نے وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار کے حوالے سےبتایا کہ تہران کی خارجہ پالیسی بنیادی طور پر ایرانی آئین کے مقدمے اور خمینی کی ہدایت پر مبنی ہے۔ انقلاب کو برآمد کرنے کے اصول نے خلاف ورزیوں کا سفر طے کرتے ہوئے ریاستوں کی حاکمیت کو چیلنج کردیا۔ "کمزور اور مغلوب عوام کی نصرت" کے نام پر ملکوں کے داخلی امور میں زبردستی مداخلت کی گئی، اور اسی بنیاد پر عراق، لبنان، شام اور یمن میں ملیشاؤں کو بھرتی کیا گیا۔ اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی کے ذریعے دہشت گردی کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کیا گیا۔ متعدد عرب ممالک میں دہشت گرد گروپ تیار کیے گئے بلکہ ان تخریبی کارروائیوں (دھماکوں) میں ملوث رہا گیا جس کے نتیجے میں کئی بے قصور جانیں چلی گئیں۔ بیرون ملک حزب اختلاف کی شخصیات کو ہلاک کیا گیا۔ ان سب کے علاوہ سفارتی مشنوں کے حوالے سے جاری خلاف ورزیاں بلکہ دنیا بھر میں غیرملکی سفارت کاروں کو ہلاک کرنے یا اس کی کوشش کے ذریعے ان سفارت کاروں کا تعاقب ... ان سب کا سہرا "ایک" ہی ریاست کے سر ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے اعداد وشمار اور تاریخ کے ساتھ حقائق پر مشتمل ایک دستاویز تیار کی ہے جس سے 35 برسوں پر محیط ایران کی دشمنانہ پالیسیاں واضح ہوجاتی ہیں۔ ساتھ ہی تہران حکومت کی جانب سے مسلسل پھیلائے جارہے جھوٹے اور گمراہ کن بیانات کی بھی تردید ہوجاتی ہے۔ ان میں ایرانی وزیر خارجہ کا نیویارک ٹائمز اخبار میں آرٹیکل اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو لکھا گیا خط شامل ہیں۔

خطے اور دنیا بھر میں دہشت گردی اور شدت پسندی کے لیے ایرانی سپورٹ کے ریکارڈ کی تفصیلات ذیل میں دی گئی ہیں :
1 – ایرانی حکومت دنیا بھر میں دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی اول نمبر کی ریاست ہے۔ اس نے اندرون ملک (فیلق القدس وغیرہ) اور بیرون ملک متعدد شیعہ دہشت گرد تنظیمیں قائم کیں۔ بیرون ملک میں لبنان میں حزب اللہ، عراق میں حزب اللہ الحجاز، عصائب اہل الحق اور دیگر بہت سی تنظیمیں، کئی ملکوں میں فرقہ وارانہ ملیشیائیں جن میں یمن کی حوثی ملیشیا شامل ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی اور اس پر بین الاقوامی پابندیاں عائد کی گئیں۔ اس کے علاوہ بھی ایران نے بہت سی دہشت گرد تنظیموں کو سپورٹ کیا جن میں کئی تنظیموں کے رہ نماؤں نے ایران میں پناہ بھی لی اور بہت سے اب بھی وہاں موجود ہیں۔
2 – سال 1982 میں لبنان میں (25) امریکیوں سمیت (96) غیر ملکی شہریوں کو اغوا کرلیا گیا جس کو 10 برسوں تک جاری رہنے والے يرغمالیوں کے بحران کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اغوا کی تمام کارروائیاں حزب اللہ اور ایران کی حمایت یافتہ تنظیموں نے کیں۔
3 – سال 1983 میں بیروت میں حزب اللہ کی جانب سے امریکی سفارت خانے کو دھماکے سے اڑادیا گیا۔ ایرانی حکومت کے تیار کردہ اس تخریبی منصوبے کے نتیجے میں سفارت خانے میں 63 افراد مارے گئے۔
4 – سال 1983 میں ہی ایرانی شہریت رکھنے والے اسماعیل عسکری نے جس کا تعلق پاسداران انقلاب سے تھا، ایرانی منصوبے پر عمل کرتے ہوئے بیروت میں امریکی میرینز کے ہیڈکوارٹر کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں امریکی میرینز اور شہریوں سمیت (241) افراد ہلاک اور (100) سے زیادہ زخمی ہوگئے۔ امریکی صحافت نے اس کو لڑائی کے میدان جنگ سے باہر ہلاکتوں کی سب سے بڑی تعداد قرار دیا۔


5 – سال 1983 میں حزب اللہ نے بیروت میں فرانسیسی فوج کے ہیڈکوارٹر کو دھماکے سے اڑا دیا، جس کے نتیجے میں 64 فرانسیسی شہری اور فوجی مارے گئے۔
6 – سال 1983 میں حزب اللہ اور ایران نواز حزب الدعوہ الشیعی نے کویت میں مختلف حملوں میں امریکہ اور فرانس کے سفارت خانوں کے علاوہ تیل کی ریفائنری اور رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا، ان حملوں میں 5 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے۔
7 – سال 1983 میں خلیج میں کویتی آئل ٹینکروں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا، جس نے ان ٹینکروں کو امریکی پرچم لہرانے پر مجبور کردیا۔
8 – سال 1984 میں حزب اللہ نے بیروت میں امریکی سفارت خانے کے اتاشی کو حملے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو امریکیوں سمیت 24 افراد ہلاک ہوئے۔


9 – سال 1985 میں امیر کویت الشیخ جابر الاحمد الصباح کی سواری کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں دو فوجی ہلاک اور دو خلیجی شہری زخمی ہوگئے۔


10 – سال 1985 میں ایرانی حکومت نے TWA ایئرلائنز کے ایک طیارے کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا۔ طیارے میں سوار 39 امریکی مسافر کئی ہفتوں تک یرغمال رہے جب کہ امریکی بحریہ کا ایک اہل کار مارا گیا۔
11 – سال 1986 میں ایران نے حج کے موقع پر اپنے عازمین حج کو بلوا کرنے پر اکسایا جس کے نتیجے میں حاجیوں کی بھگدڑ سے 300 افراد جاں بحق ہوگئے۔


12 – سال 1987 میں سعودی عرب کے مشرقی شہر راس تنورہ میں آئل کمپلیکس کے ایک ورکشاپ میں آگ لگا دی گئی۔ یہ کارروائی ایرانی حکومت کی حمایت یافتہ تنظیم "حزب اللہ الحجاز" کے ارکان نے کی۔ اسی سال اس تنظیم نے مملکت کے صنعتی شہر الجبیل میں صدف کمپنی کو حملے کا نشانہ بنایا۔
13 – سال 1987 میں ایرانی حکومت تہران میں سعودی سفارت کار مساعد الغامدی کی ہلاکت میں ملوث رہی۔ یہ وہ ہی سال تھا جب ایران کی اپنے حاجیوں کے ذریعے دھماکا خیز مواد کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بنا دی گئی تھی۔
14 – سال 1987 میں تہران میں سعودی قونصل رضا عبدالمحسن پر بھی حملہ کیا گیا۔ اس دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے انہیں گرفتار کرلیا، بعد ازاں سعودی عرب اور ایران کے درمیان مذاکرات کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی۔
15 – 80ء کی دہائی میں لبنان میں کئی امریکی سفارت کاروں کو اغوا اور قتل کیا گیا۔
16 – سال 1989 میں ایران نے ویانا میں ایرانی کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ عبدالرحمن قاسملو اور ان کے نائب کو قتل کروا دیا۔ 1991 میں پیرس میں پاسداران انقلاب نے شاہ ایران کی حکومت کے وقت آخری وزیراعظم شہبور بختیار کو ہلاک کردیا، اس دوران فرانس کا ایک سیکورٹی اہل کار اور خاتون شہری بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 1992 میں برلن میں ایران نے ایرانی کردستانی ڈیموکریٹک پارٹی کے سیکریٹری جنرل صادق شرفقندی اور ان کے تین معاونین کو موت کی نیند سلادیا۔


17 – سال 1989 میں ایرانی حکومت نے لبنان میں متعدد امریکی سفارت کاروں کو اغوا اور قتل کرا دیا۔
18 – سال 1989 سے 1990 کے دوران ایرانی حکومت تھائی لینڈ میں 4 سعودی سفارت کاروں کی ہلاکت میں ملوث رہی۔


19 – سال 1992 میں ایرانی حکومت برلن (جرمنی) میں میکونوس ریستوران کو دھماکے سے اڑانے میں ملوث رہی۔ جس کے بعد جرمن اٹارنی جنرل ایرانی انٹیلجنس کے وزیر علی فلاحیان پر دھماکے کی کارروائی کی نگرانی کا الزام لگاتے ہوئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے۔ کارروائی میں ریستوران میں اس وقت موجود اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے 4 کرد مارے گئے۔
20 – سال 1994 میں بیونس آئرس (ارجنٹائن) میں 85 سے زیادہ افراد کی ہلاکت اور تقریبا 300 کے زخمی ہونے کا سبب بننے والے دھماکوں کی کڑیاں بھی تہران حکومت سے جا کر ملیں۔ 2003 میں برطانوی پولیس نے ارجنٹائن میں سابق ایرانی سفیر ہادی پور کو حملے کی سازش تیار کرنے کے الزام میں گرفتار کرلی۔
21 – سال 1994 میں وینزویلا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں 4 ایرانی سفارت کاروں کو کراکس ایئرپورٹ پر ہونے والے خطرناک واقعات میں براہ راست ملوث قرار دیا۔ ان واقعات کا مقصد ایرانی پناہ گزینوں کو اپنے ملک واپس جانے پر مجبور کرنا تھا۔


22 – سال 1996 میں ایرانی حکومت کے زیرانتظام حزب اللہ الحجاز نامی تنظیم نے سعودی عرب کے شہر الخبر میں رہائشی ٹاوروں کو دھماکے کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 19 امریکیوں سمیت 120 افراد ہلاک ہوئے۔ ایران نے کارروائی کے مرتکب افراد کو تحفظ فراہم کیا جن میں ایرانی پاسپورٹ رکھنے والا ایک سعودی شہری بھی شامل ہے۔ کارروائی کی نگرانی اس وقت بحرین میں ایرانی فوجی اتاشی نے کی جب کہ مجرمانہ کارروائی کرنے والوں کی تربیت لبنان اور ایران میں کی گئی۔ دھماکا خیز مواد کو حزب اللہ کے ذریعے لبنان سے مملکت پہنچایا گیا۔


23 – سال 2001 سے اپنی سرزمین پر القاعدہ تنظیم کے کئی لیڈروں کو محفوظ پناہ گاہ کی فراہمی، ان لیڈروں میں سعد بن لادن، سیف العدل اور دیگر شامل ہیں۔ ان افراد کو مسلسل مطالبوں کے باوجود ان کے ملکوں کے حوالے نہیں کیا گیا۔
24 – سال 2003 میں ایرانی حکومت ریاض میں ہونے والے دھماکوں میں ملوث رہی، ان دھماکوں میں متعدد سعودی شہری اور امریکیوں سمیت کئی غیرملکی بھی ہلاک ہوئے۔


25 – سال 2003 میں بحرین میں دھماکا کرنے کے ایک دہشت گرد منصوبے کو ناکام بنا دیا گیا۔ ایک نئے دہشت گرد گروپ کو گرفتار کیا گیا جس کو ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنانی حزب اللہ سے سپورٹ مل رہی تھی۔ اسی طرح کی صورت حال مختلف وقتوں میں کویت اور امارات میں بھی دیکھنے میں آئی۔
26 – سال 2003 میں ایرانی حکومت نے عراق میں شیعہ عناصر کو سپورٹ فراہم کی جنہوں نے ایران نواز تنظیمیں تشکیل دیں۔ ان کے ذریعے 4400 امریکی فوجیوں اور لاکھوں شہریوں بالخصوص سنیوں کو ہلاک کروایا گیا۔
27 – سال 2006 میں واشنگٹن کا کہنا تھا کہ ایران نے افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف طالبان کو سپورٹ کیا۔ ایرانی حکومت نے افغانستان میں ہلاک کیے جانے والے ہر امریکی فوجی کے بدلے 1 ہزار ڈالر کی رقم بطور انعام مختص کی۔
28 – سال 2007 میں امریکی سینیٹ نے ایک قرار داد میں ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم کا نام دیا۔


29 – سال 2001 میں ایرانی حکومت کراچی میں سعودی سفارت کار حسن القحطانی کی ہلاکت میں ملوث رہی۔


30 – سال 2011 میں امریکا نے سعودی سفیر کو ہلاک کرنے کی کوشش ناکام بنادی، اس کوشش میں ایرانی حکومت کا ملوث ہونا ثابت ہوگیا۔ اس سازش کے سلسلے میں نیویارک کی فیڈرل کورٹ نے ایرانی ایجنٹ منصور ارباب سیار کو 25 سال قید کی سزا سنائی جب کہ دوسرا مطلوب غلام شکوری پاسداران انقلاب کا افسر ہے اور ابھی تک ایران میں موجود ہے۔


31 – اکتوبر 2012 میں پاسداران انقلاب کے زیرانتظام ایرانی قزاقوں نے سعودی عرب اور خلیج میں تیل اور گیس کی کمپنیوں کے خلاف الیکٹرونک حملے کیے۔ امریکی وزیر دفاع لیون پینیٹا نے ان الیکٹرونک حملوں کو نجی سیکٹر میں سب سے زیادہ تباہ کن قرار دیا۔
32 – سال 2012 میں آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں امریکی سفارت کاروں اور اہل کاروں کو ہلاک کرنے کے منصوبے کا انکشاف ہوا۔ منصوبے کے پیچھے آذربائیجان میں پاسداران انقلاب کے احکامات پر عمل درامد کرنے والی ایک ایران نواز شیعہ تنظیم کا ہاتھ تھا۔
33 – سال 2016 میں کویت میں فوجداری عدالت نے العبدلی گروپ کے مشہور کیس میں دو افراد کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا جن میں ایک ایرانی شہری تھا۔ ان افراد پر کویت کی سلامتی اور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کی کوششوں اور ایران اور حزب اللہ کے لیے جاسوسی کے الزامات تھے۔
34 – جنوری 2016 میں ایران نے سرکاری طور پر پاسداران انقلاب کے سربراہ محمد علی جعفری کی زبانی بیرون ملک (شام، عراق، افغانستان پاکستان اور یمن میں) 2 لاکھ ایرانی جنگجوؤں کی موجودگی کا اعتراف کیا۔


35 – اس کے علاوہ ایرانی سفارتی مشنوں نے مختلف ملکوں میں جاسوسی کے نیٹ ورک تشکیل دیے، ان کے ذریعے دہشت گرد منصوبوں اور کارروائیوں پر عمل درامد کیا جاتا تھا۔ جن ممالک میں ایرانی جاسوس نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ان میں سعودی عرب (2013)، کویت (2010 اور 2015)، بحرین (2010 اور 2011)، کینیا (2015)، مصر (2005، 2008 اور 2011)، اردن (2015)، یمن (2012)، امارات (2013)، ترکی (2012) اور نائیجیریا (2015) شامل ہیں۔
36 – لبنان میں حزب اللہ (جسے سابق امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمٹیج نے دنیا کی اول نمبر دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا) کے علاوہ ایرانی حکومت نے عراق، یمن اور دیگر ملکوں میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں اور ملیشائیں تشکیل دیں۔
37 – اسی طرح شیعہ ملیشیاؤں کی تربیت کے لیے پاسداران انقلاب کے ارکان کو عراق میں گھسایا گیا۔ ان ملیشیاؤں کو سنیوں اور بین الاقوامی افواج کے ارکان کو ہلاک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔
38 – ایرانی حکومت دنیا بھر میں IED دھماکا خیز مواد تقسیم کرنے والی سب سے بڑی تقسیم کار ہے۔ یہ مواد گاڑیوں اور بکتر بند گاڑیوں کو دھماکے سے اڑانے میں استعمال ہوتا ہے۔
39 – ایرانی حکومت سفارتی مشنوں کی حرمت کی پامالی سے بھرا ریکارڈ رکھنے میں اول نمبر پر ہے۔ 1979 میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول کر اس سے متعلقہ لوگوں کو 444 روز تک یرغمال بنا کر رکھا گیا۔ 1987 میں سعودی اور کویتی سفارت خانوں پر حملے کیے گئے۔ 1988 میں روسی سفارت خانے کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ 2007 میں کویتی سفارت کار پر اور 2009 میں پاکستانی سفارت خانے پر دھاوا بولا گیا۔ 2011 میں برطانوی سفارت خانے پر حملہ ہوا اور آخر میں 2016 میں تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں اس کے قونصل خانے پر حملہ کیا گیا۔


40 – ایرانی حکومت نے سعودی سفارتی مشن کو تحفظ فراہم نہیں کیا بلکہ سیکورٹی فورسز کے اہل کاروں نے مشن کی عمارت میں داخل ہو کر وہاں کی چیزوں کو لوٹ لیا۔
41 – سعوی عرب پہلا ملک نہیں جس نے ایرانی حکومت سے اپنے تعلقات منقطع کیے، بلکہ اس سے قبل امریکا، برطانیہ، کینیڈا اور بعض یورپی ممالک کے علاوہ الجزائر، تیونس، مصر، مراکش اور یمن نے جب کہ حال میں بحرین، سوڈان، صومالیہ اور جیبوتی نے ایرانی حکومت کے ساتھ تعلقات منقطع کیے۔ اس کے علاوہ کئی ملکوں نے اپنے امور میں ایرانی مداخلت اور ایرانی حکومت کی دہشت گردی کی سرپرستی کے سبب تہران سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔
42 – القاعدہ اور داعش کی جانب سے سعودی عرب کو بہت سے دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنایا گیا تاہم ایرانی حکومت کو ان دونوں تنظیموں کی جانب سے کسی دہشت گرد کارروائی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جس سے اس حکومت کے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے ساتھ تعلق کے شبہات یقین میں بدل جاتے ہیں۔
43 – سال 1979 میں ایرانی انقلاب آنے سے قبل عرب دنیا میں کوئی فرقہ واریت کو نہیں جانتا تھا۔ ایرانی حکومت نے لبنان، شام، عراق اور یمن میں مداخلت کی یہاں تک کہ سابق ایرانی وزیر انٹیلجنس حیدر مصلحی نے غیر واضح انداز میں اعتراف کیا کہ ایران کا 4 عرب دارالحکومتوں پر قبضہ ہے۔
44 – ایرانی حکومت نے کئی خلیجی عرب ممالک کے شہریوں کا مذہبی بنیادوں پر فائدہ اٹھاتے ہوئے استحصال کیا۔ ان کو تیسرے ملک کے راستے بنا ویزے کے ایران اسمگل کروا دیا۔ بعد ازاں بین الاقوامی پانیوں میں ان کے اغوا کی اطلاع پھیلا کر درحقیقت ان کو ہتھیاروں اور دہشت گردی کے تربیتی مراکز پہنچایا۔ پھر اس کے بعد ان افراد کو اپنے ملک اور ہم وطنوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے واپس بھجوایا۔
45 – شاید خطے کے امور میں ایرانی مداخلت کی سب سے بڑی مثال شام میں اس کی حالیہ مداخلت ہے، جس میں پاسداران انقلاب اور فیلق القدس کو استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کی ملیشیاؤں کی بھرتیاں، اور کئی ممالک کی فرقہ وارانہ ملیشیائیں بھی شامل ہیں۔ یہ بشار الاسد کی اپنے عوام کے خلاف لڑائی میں اس کا ساتھ دے رہی ہیں۔ چار سال 10 ماہ سے جاری اس انقلابی تحریک کے دوران 2.5 لاکھ سے زیادہ شامی شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں جب کہ ہماری حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے المیے میں تقریبا 1 کروڑ 20 لاکھ افراد بے گھر ہوگئے۔


46 – عرب دنیا میں اس ایرانی مداخلت کو صرف سعودی عرب نے ہی مسترد نہیں کیا بلکہ عرب لیگ نے بھرپور انداز سے اپنی قرار دادوں کے ساتھ اس کو مسترد کیا۔
47 – ایران کا یہ دعویٰ کہ یمن میں اس کے سفارت خانے کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا، اس دعوے کو تصویری حقائق نے جھوٹا ثابت کردیا۔
48 – ایران کے جھوٹ اور جعل سازی کا ثبوت اس کی جانب سے شیعہ مخالف جھوٹے اقوال کو مسجد الحرام کے ایک امام سے منسوب کرنا ہے۔ اس جھوٹ کا پول حرم کے آئمہ کے خطبوں کی وڈیو ریکارڈنگ سے کھل گیا۔
49 – نمر النمر، جسے ایرانی حکومت پر امن سیاسی کارکن قرار دیتی ہے، پر دیگر 46 دہشت گردوں کے ساتھ فرد جرم عائد کی گئی۔ اس کی جانب سے ایک دہشت گرد گروپ کی تشکیل ثابت ہوگئی تھی جو افراد کی بھرتیوں، منصوبہ سازی، اسلحے کے حصول اور دہشت گرد کارروائیوں پر عمل درامد کے لیے کام کررہا تھا۔ ان کارروائیوں میں متعدد بے قصور افراد ہلاک ہوئے جب کہ سیکورٹی فورسز کو فائرنگ کا نشانہ بھی بنایا گیا۔
50 – عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے ایرانی حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور دہشت گردی کو سپورٹ کرنے کے الزامات ہیں۔ اس کی تصدیق جنرل اسمبلی کی جانب سے 6 اکتوبر 2015 کو جاری ہونے والی رپورٹ نمبر 70 / 411 سے ہوتی ہے۔
51 – بین الاقوامی رپورٹوں کے مطابق، 2015 کے دوران ایران میں سزائے موت کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ رہی جس کی اوسط روزانہ تین اموات بنتی ہے۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ نے 27 سنی علماء کی سزائے موت کے احکامات کی تصدیق کی جب کہ ان احکامات کے جواز کی کوئی وجہ نہیں تھی۔


52 – ایران بھرپور طریقے سے اقلیتوں کے حقوق پامال کرتا ہے جن میں عرب اھواز، کرد، بلوچ اور ان کے علاوہ دیگر نسلوں اور مسلکوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں۔ ان اقلیتوں کو حاصل حقوق پر عمل کرنے سے روکنے دیا جاتا ہے۔


53 – ایران سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2216 کی بھی خلاف ورزی کر رہا ہے جو یمن کے بحران کے ساتھ مخصوص ہے۔ وہ حوثی ملیشیاؤں کو بدستور اسلحہ کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان میں وہ بحری جہاز بھی ہیں جن کو یمن کے راستے میں روک لیا گیا تھا اور وہ اسلحے، گولہ بارود اور راکٹوں سے بھرے ہوئے تھے۔
54 – ایرانی حکومت جو اپنے ایجنٹوں کے تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے، اگر اس ایجنٹ کی دہشت گرد کارروائی ظاہر ہوجائے تو پھر وہ ان ایجنٹوں کو ختم کرنے میں ہرگز نہیں ہچکچاتی۔ جیسا کہ الخبر دھماکوں میں شریک افراد میں سے ایک کے ساتھ ہوا۔
55 – جہاں تک ایرانی وزیر خارجہ کے ان دعوؤں کا تعلق ہے کہ مملکت نیوکلیئر معاہدے کی مخالف ہے تو اس سے بھی ایک مرتبہ پھر تہران حکومت کے جھوٹ کی تصدیق ہوجاتی ہے۔ سعودی عرب تو کسی بھی ایسے معاہدے کی اعلانیہ تائید کا اظہار کرچکا ہے جو ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روک دے، مستقل اور کڑی تفتیش کے میکینزم کو لازم کرے اور ایران کی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی کی صورت میں پابندیوں کو پھر سے بحال کر دے۔ اس امر کی امریکا نے بھی تصدیق کی تھی۔
56 – ایران پر لازم ہے کہ وہ فیصلہ کرلے کہ آیا وہ انارکی کا شکار انقلابی ریاست کے طور پر رہنا چاہتا ہے یا پھر ایسی ریاست بن کر جو بین الاقوامی معاہدوں کا احترام اور پاسداری کرنے کے ساتھ ساتھ ملکوں کے داخلی امور میں ٹانگ نہ اڑائے۔
57 – سعودی عرب نے ایرانی انقلاب کے آغاز سے ہی کوشش کی کہ وہ ایران کی جانب سلامتی، پرامن باہمی بقاء اور جذبہ خیرسگالی کا ہاتھ بڑھائے، تاہم ایران نے اس کا جواب فرقہ وارانہ اور مسلکی فتنہ انگیزیوں اور قتل وغارت گری سے دیا۔
58 – اگر ایران عقل ومنطق کی زبان کے اظہار کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ اس کا آغاز اپنے آپ سے کرے اور اپنی تمام تر تخریبی کارروائیوں کو روک دے جو بین الاقوامی اصولوں اور منشوروں کے منافی ہیں۔