.

مالیاتی بحران کے باعث داعش تنخواہیں کم کرنے پرمجبور

جنگجوؤں کی ماہانہ اجرت200 ڈالر کم کردی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق کے درمیان اپنی خود ساختہ سلطنت قائم کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامی ’’داعش‘‘ کو شدید مالیاتی بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کے نتیجے میں جنگجوؤں کی ماہانہ اجرت چار سو ڈالر سے کم کرکے دو سو ڈالرتک کردی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داعش کی آمدن میں کمی کی ایک اہم وجہ تیل کے ذرائع سے حاصل ہونےوالی رقوم کی کمی ہے۔ تیل کے وسائل سے اب دولت اسلامی کو زیادہ فائدہ نہیں پہنچ رہا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کی جانب سے جاری کرد ہ ایک بیان میں کہا گیاہے کہ داعش کی آمدن میں کمی کے باعث تنظیم کو اپنے جنگجوؤں کی اجرت نصف سے بھی کم کرنا پڑی ہے۔

آبزرویٹری نے شمالی شام کے الرقہ شہر میں داعش کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکلر کا حوالہ دیا ہے۔ اس سرکلر میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کو درپیش ہنگامی حالات کے تناظر میں تمام عہدوں پرکام کرنے والے ’’مجاھدین‘‘ کی تنخواہیں نصف کردی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ بلا تفریق تنظیم سے وابستہ تمام عناصر کے لیے ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ داعش کی جانب سے ہر ماہ معمول کے مطابق دو مرتبہ خوراک کی تقسیم کا عمل جاری رہے گا۔

خیال رہے کہ کچھ عرصہ پیشتر داعش کی جانب سے اپنے جنگجوؤں کے لیےماہانہ 400 ڈالر کی اجرت مقرر کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ نقد تنخواہ کےساتھ تمام جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو ماہانہ خشک راشن بھی فراہم کیا جاتا ہے۔