.

امریکی فوج شام میں آپریشنل کارروائیوں میں شریک

الحسکہ کا ہوائی اڈہ امریکی فوج کے زیراستعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں پہلی بار امریکی فوج کی باضابطہ موجودگی کا انکشاف ہوا۔ میڈیا رپورٹس سے پتا چلا ہے کہ شام کی الحسکہ گورنری کے نواح میں الرمیلان نامی فوجی ہوائی اڈہ امریکی فوج کے استعمال میں ہے جہاں سے امریکی جنگی ہیلی کاپٹر آپریشن کارروائیوں کے لیے پرواز کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق سماجی کارکنوں کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کل منگل کو الرمیلان ہوائی اڈے پر امریکا کے دو جنگی ہیلی کاپٹروں کو لینڈ کرتے دیکھا گیا ہے۔ سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ شام کےشمال مشرق میں واقع ہے جس پر کرد جنگجوؤں کا انتظامی کنٹرول قائم ہے۔

انسانی حقوق آبزرویٹری نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ الحسکہ گورنری سے متصل رمیلان فوجی اڈہ ابھی تیاری کے مراحل میں ہے جسے جزوی طورپر جنگی کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ پچھلے چند ہفتوں سے اس کے مرکزی رن وے کی تعمیر توسیع کا کام بھی جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رمیلان فوجی اڈے کے رن وے کی تیاری کے بعد وہاں پرامریکی طیاروں کی باضابطہ آمد ورفت شروع ہوسکتی ہے جہاں سے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کے لیے اس ہوائی اڈےکو استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ ہوائی اڈہ شام میں داخل ہونے والے امریکی فوجیوں کا ہیڈ کواٹر بھی ہوسکتا ہے جہاں وہ اعتدال پسند اپوزیشن کے عسکری کارکنوں کوجنگی تربیت دیں گے۔

تیل کی دولت سے مالا مال الرمیلان شہر کے جنوب مشرق میں واقع اس قصبے کو ’’ابو حجر‘‘ کے نام سے موسوم کیاجاتا ہے۔ رمیلان شہرمیں شام تیل کا بھی اہم مرکز ہے جہاں تیل کے کئی ذخائر موجود ہیں۔ حکومت مخالف کرد جنگجو گورپ ’’حمایۃ الشعب‘‘ کے زیرانتظام اس شہر کا تیل عراق کے کردستان کے راستے بیرون ملک بھیجا جاتا رہا ہے۔