.

سعودی عرب :مہمانوں کے ہاتھ شہد سے دھلوانے کی مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے علماء اور قبائلی زعماء نے بعض شہریوں کی جانب سے اپنے مہمانوں کے ہاتھ شہد یا مشک عود سے دھلوانے کے عمل کو اسراف قرار دیا ہے اور اس طرزِعمل پر تنقید کی ہے۔

حال ہی میں یوٹیوب کے ذریعے ایک ویڈیو منظرعام پر آئی ہے جس میں بعض لوگ شہد کو اپنے ہاتھوں پر انڈیل رہے ہیں اور اس کے بعد پانی سے ہاتھوں کو دھو رہے ہیں۔بعض قبائلی زعماء اور علماء نے ان لوگوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا عمل روایت یا مذہبی رسوم کی عکاسی نہیں کرتا ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔

ایک ماہر نفسیات سلیمان الزیدی نے ویڈیو دیکھنے کے بعد کہا کہ بظاہر یہ لوگ امیر کبیر نظر آرہے ہیں جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کا عمل سعودی معاشرے میں کسی عمومی کردار کا مظہر نہیں ہے۔وہ بچگانہ حرکت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

سوشل ورکر احمد الاسعد کا کہنا تھا کہ اس طرح کے طرزعمل کو بڑے پیمانے پر مسترد کیا جاتا ہے اور بعض قبائل ہی میں اس طرح مہمانوں کے ہاتھ شہد یا عود سے دھلوانے کی روایت پر عمل کیا جاتا ہے۔بعض لوگ کا مقصد اس طرح کے واقعات کی تشہیر یا نمود ونمائش ہوتا ہے حالانکہ ان کے اس میں کوئی منطق کارفرما نہیں ہوتی ہے۔

شیخ سعود آل فنسان نے ویڈیو میں نظرآنے والے لوگوں کو احمق اور فضول خرچ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اس طرح کی حرکت کرتے ہیں تو ان کی سرزنش کی جانی چاہیے کیونکہ اس سے معاشرے میں فساد پھیلنے کا اندیشہ ہے۔۔

ایک قبائلی سردار شیخ عویدہ بن سعید نے کہا کہ یہ کوئی روایتی فعل نہیں ہے۔ہمیں ماضی میں شہد اور عود کی استعمال کے لیے ضرورت پڑتی تھی (اور وہ ملتا نہیں تھا) لیکن اب لوگ اس کو اس طرح مسرفانہ انداز میں ضائع کررہے ہیں۔