.

"اسد خاندان طاقتور کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہے"

شامی فرسٹ فیملی کی 'گھر کی بھیدن' نے کئی اہم راز فاش کر دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد کے بھائی بریگیڈئر جنرل ماھر الاسد "خباثت، مکاری اور جرائم" جیسے معاملات میں اپنے والد حافظ الاسد کے زیادہ بہتر جانشین ثابت ہو رہے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار ماہر الاسد کی اہلیہ منال جدعان کی بہن مجد توفیق جدعان نے کیا۔ مجد توفیق جدعان شامی حکومت کی شدید ناقد سمجھی جاتی ہیں۔

حکمران خاندان سے متعلق انہوں نے متذکرہ خیالات کا اظہار لندن سے شائع ہونے والے کثیر الاشاعت اخبار 'القدس' کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

ایک سوال کے جواب میں ماھر الاسد کی سالی نے بتایا کہ ان کے جیجا جی شامی صدر بشار الاسد سے انتہائی مختلف عادات کے مالک ہیں۔ مجد کے بقول بشار الاسد دراصل ایک غیر ملکی مارکیٹنگ کمپنی کی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں کہ جس نے انہیں شامیوں میں مقبول بنانے کے لئے مشورے دیئے۔ تاہم شام میں بپا ہونے والے حکومت مخالف عوامی انقلاب کے بعد تمام نقاب اترنے کے بعد حکمران خاندان کا اصلی وحشت ناک چہرہ عوام کے سامنے آیا۔

جدعان نے بتایا کہ ان کے جیجا جی قطعی طور پر سوشل انسان نہیں تھے، حتی کہ جن ہوٹلوں میں اکثر کھانا کھانے جاتے وہاں ان کے لئے الگ کمرے بنائے گئے تھے جہاں وہ لذت کام ودہن سے لطف اندوز ہوتے۔

حکمران خاندان کے خلاف اعلان بغاوت کرنے والی گھر کی بھیدن مجد جدعان نے ماھر الاسد کی میڈیا سے غیر حاضری کا پردہ چاک کرتے ہوئے بتایا کہ عوام طور پر یہی بات مشہور ہے کہ وہ [ماھر الاسد] قومی سلامتی کے دفاتر میں ہونے والے بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے، جس کے بعد ان کی ٹانگ کاٹنا پڑی۔ اس دھماکے میں ماھر الاسد اور بشار الاسد کے برادر نسبتی آصف شوکت اور شام کی صف اول کی قیادت بڑی تعداد میں ہلاک ہوئی۔

مجد جدعان نے بتایا کہ حقیقت اس کے برعکس تھی۔ دھماکے کے بعد نسبتا گم نامی کی زندگی گزارنے والے ماھر الاسد ماضی میں اپنے ایرانی حلیف کے ساتھ مل کر شام میں وحشیانہ فوجی کارروائیوں کو کںڑول کر رہے تھے اور وہ شامی عوام کو تہہ تیغ کرنے کے لئے روسی احکامات کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہیں۔

شام کی اپوزیشن خاتون رہنما مجد جدعان نے بتایا کہ فوجی عہدیدار کے طور پر شام کی تباہی اور عوام کے قتل عام میں ان کے جیجا جی کا بشار الاسد سے زیادہ حصہ ہے۔ مجد کے بقول بشار الاسد کی حیثیت پورے منظر نامے میں ایک معمولی مہرے کی ہے۔ وہ بیچارا تو اپنی مرضی سے اقتدار سے الگ بھی ہونے کی سکت نہیں رکھتا۔

مجد جدعان نے 'القدس' کو اپنے انٹرویو میں شامیوں کو بشار الاسد کے ہاتھوں قتل کرانے میں ایران اور روس کے کردار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو کام کرنے میں بشار اور ایران ناکام رہے، اس کی تکمیل کی خاطر روس میدان میں کود پڑا ہے۔

شامی حکمران خاندان کی عادات سے واقف مجد جدعان کے بقول "حافظ الاسد کی آل اولاد صرف کمزوروں کے سامنے شیر ہے، طاقتوروں کے سامنے وہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔"