.

اسرائیلی پروفیسروں پر بیرون ملک بائیکاٹ کا بڑھتا ہوا دباؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی جامعات کے عالمی بائیکاٹ کی تحریک روز بروز زور پکڑتی جارہی ہے اور اسرائیلی پروفیسروں کا کہنا ہے کہ انھیں بیرون ملک اپنے ہم پیشہ افراد کی جانب سے مختلف قسم کے دباؤ کا سامنا ہے۔

اس اقدام کواسرائیل کے فلسطینیوں کے خلاف ظالمانہ اقدامات پر احتجاج کے طور پر چلائی جانے والی تحریک برائے بائیکاٹ اور پابندیاں (بی ڈی ایس) کی حمایت حاصل ہے۔آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے چلائی جانے والی اس تحریک کا ہدف اگرچہ اسرائیلی جامعات ہیں ،افراد نہیں ہیں۔

لیکن اسرائیلی ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ انھیں ذاتی طور پر پہلے کی طرح کے تدریسی اور تحقیقی مواقع مہیا نہیں ہورہے ہیں اور انھیں تعلیمی موضوعات پر ہونے والی کانفرنسوں میں بھی شرکت کے لیے دعوت نامے نہیں بھیجے جاتے ہیں۔انھوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ مستقبل میں انھیں اپنے تحقیقی مقالات اور مضامین کو پیشہ ورانہ جرائد میں چھپوانے کے لیے دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اسرائیلی جامعات اور پروفیسروں کا بائیکاٹ فلسطین نواز وسیع تر تحریک ''بی ڈی ایس'' کا حصہ ہے۔نسل پرستی مخالف تحریک سے متاثرہ اس مہم کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کو آگے بڑھانے کی غرض سے غیر متشدد ذرائع استعمال کررہے ہیں۔وہ اسرائیل کی مصنوعات ،جامعات کے بائیکاٹ کے لیے مہم چلا رہے ہیں تاکہ صہیونی ریاست پر دباؤ ڈالا جاسکے جبکہ اسرائیل نے اس تحریک پر اپنے خلاف جھوٹ اور شر پھیلانے کا الزام عاید کیا ہے۔

اسرائیلی عہدے دار اس تحریک کے خلاف بیانات جاری کرتے رہتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک یہود مخالفت کے زمرے میں آتی ہے اور صہیونی ریاست کو تباہ کرنا چاہتی ہے جبکہ بی ڈی ایس آفاقی انسانی حقوق کی بات کرتی ہے اور وہ الفاظ اور ذرائع محتاط روی سے کا انتخاب کرتی ہے جن پر کسی قسم کا کوئی حرف نہ آسکے اور اگر اسرائیل کسی عدالت میں جاتا ہے تو اس کے لیے مہم کے خلاف کوئی چیز ثابت کرنا مشکل ہوگی۔

بی ڈی ایس نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ ''اسرائیلی دانشوروں اور ماہرین تعلیم و تدریس کی اکثریت نے یا تو براہ راست اسرائیل کے فلسطینی علاقوں پر قبضے اور نسل پرستی میں اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے یا پھر خاموش رہ کر حکومت کی ان غلط کاریوں کی تائید کی ہے''۔

اسرائیلی جامعات کے بائیکاٹ کی اس مہم کو برطانیہ میں نمایاں حمایت جاصل ہوئی ہے اور اب یہ امریکا میں بھی زور پکڑ رہی ہے۔حالیہ برسوں کے دوران تنظیم برائے ایشیائی امریکی مطالعات ،امریکن اسٹیڈیز ایسوسی ایشن ،تنظیم بائے مقامی امریکی اور آبائی مطالعات اور نیشنل ویمن اسٹیڈیز ایسوسی ایشن نے اسرائیلی جامعات کے بائیکاٹ کی منظوری دی ہے۔

امریکن انتھروپالوجی ایسوسی ایشن نے نومبر میں اپنے سالانہ اجلاس میں اسرائیلی جامعات کے بائیکاٹ سے متعلق قرارداد کی حمایت کی تھی اور اب اس موسم گرما میں اس کے بارہ ہزار سے زیادہ اراکین اس قرارداد پر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔اگر یہ قرارداد منظور کر لی جاتی ہے تو یہ ایسوسی ایشن اسرائیل کا تدریسی بائیکاٹ کرنے والی سب سے بڑی امریکی تنظیم ہوگی۔

مگر اس کے باوجود اسرائیل کی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں جامعہ ٹیکنیئن کے صدر پیریٹز لیوی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے فیصلوں کے اثرات کم سے کم تر مرتب ہورہے ہیں ۔اسرائیلی اور امریکی جامعات کے درمیان بدستور ادارہ جاتی اور قیادت کی سطح پر مضبوط تعلقات استوار ہیں۔

مسٹر لیوی اسرائیلی جامعات کے سربراہوں کی تنظیم کے چئیرمین بھی ہیں اور انھوں نے امریکی جامعات کی تنظیم کے گذشتہ ماہ کے فیصلے کے سراہا ہے جس کے تحت انھوں نے بائیکاٹ کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے۔یہ گروپ امریکا کی باسٹھ سرکردہ جامعات کا نمائندہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ''بائیکاٹ تدریسی آزادی کے منافی ہے''۔

تاہم پروفیسر لیوی نے تسلیم کیا ہے کہ بائیکاٹ کی تحریک اسرائیلی جامعات کے قائدین کے لیے تشویش کا سبب ہے کیونکہ یہ بالخصوص امریکی طلبہ یونینوں اور اکیڈیمک ایسوسی ایشنوں میں ''بنیادی سطح'' پر جڑیں پکڑ رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ''اگر ہم اس سے اب نہیں نمٹتے ہیں تو یہ ایک بڑا مسئلہ بن جائے گی''۔

واضح رہے کہ اسرائیل اپنے خلاف کسی بھی تحریک یا گروپ کے احتجاج کے ردعمل میں ہمیشہ منفی الفاظ استعمال کرتا رہتا ہے۔جو دانشور اس کی فلسطینیوں کے خلاف چیرہ دستیوں کی مذمت کرتا ہے،اس کو ''یہود مخالف'' قرار دے دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف یہود کے زیراثر میڈیا اداروں اور خبررساں ایجنسیوں کے ذریعے بھرپور پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔