.

جان کیری نے داعش کو ''مرتد'' قرار دے دیا

داعش نے عظیم دین کو ہائی جیک کر لیا اور وہ کذب بیانی سے کام لے رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے غیرمعمولی طور پر سخت لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کو مرتد قرار دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے اپنے شہریوں کو مذہبی آزادی دے رکھی ہے اور وہ ارتداد کو ایک جرم قرار نہیں دیتا ہے لیکن جان کیری اس کے برعکس ایک خالص اسلامی مذہبی بحث میں شامل ہوگئے ہیں اور انھوں نے داعش کے پرہیز گار ہونے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے انھیں سیدھے سبھاؤ مرتد ہی قرار دے دیا ہے۔

انھوں نے اطالوی دارالحکومت روم میں منگل کے روز داعش مخالف ممالک کے اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں کہا:''داعش درحقیقت قاتلوں ،اغوا کاروں ،جرائم پیشہ افراد ،ٹھگوں ،مہم جوؤں ،اسمگلروں اور چوروں کا ایک گروہ ہیں''۔

انھوں نے داعش کے خلاف ایسے ہی الفاظ میں اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ''وہ اس سب سے بڑھ کر مرتد ہیں۔ان لوگوں نے عظیم دین کو یرغمال بنا لیا ہے ،وہ اس کے حقیقی مفہوم اور مقصد کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں اور وہ اپنے مقاصد کے لیے لڑنے کی خاطر لوگوں کو دھوکا دے رہے ہیں''۔

واضح رہے کہ مسلم فقہاء نے قرآنی تعلیمات کی روشنی میں اسلامی عقیدے کو چھوڑ کر مرتد ہونے والوں کے لیے سزائے موت کے حق میں فتاویٰ دیے ہیں اور بیشتر اسلامی ممالک میں مرتدوں کے خلاف عدالتوں میں مقدمے چلا کر انھیں سزائے موت دی جاتی ہے۔پھر انھیں تہ تیغ کردیا جاتا یا سولی دے دی جاتی ہے۔

داعش نے اسلامی شریعت کی اپنی تعبیر وتشریح کے مطابق عراق اور شام میں اپنے زیر قبضہ علاقوں میں جون 2014ء سے خلافت قائم کررکھی ہے اور وہ اپنے مخالف مسلمانوں کو مرتد قرار دیتے ہیں۔

جان کیری امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل تیٔیس ممالک کے اجلاس کے بعد جب اطالوی وزیر خارجہ پاؤلو جینٹیلونی کے ساتھ نیوز کانفرنس کررہے تھے تو اس دوران مظاہرین نے احتجاج شروع کردیا جس کی وجہ سے انھیں کچھ دیر کے لیے نیوز کانفرنس روکنا پڑی۔مظاہرین نے الزام عاید کیا ہے کہ امریکی پالیسی کی وجہ سے جنگجوؤں کو سر اٹھانے اور کھل کھیلنے کا موقع ملا ہے۔