.

ایرانی خواتین اور نوجوان اصلاح پسندوں کی کارکردگی سے نالاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی بہت سی خواتین اور نوجوان تین ہفتے بعد ہونے والے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے بارے میں مخمصے اور التباس کا شکار نظر آتے ہیں۔وہ وسیع تر اصلاحات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت کی کارکردگی سےنالاں ہیں اور ان کی آزاد معاشرے کے قیام کے لیے صدر حسن روحانی کے وعدوں سے وابستہ امیدیں بھی دم توڑتی جارہی ہیں۔

26 فروری کو ایران میں ہونے والے عام انتخابات میں صدر روحانی کے حمایت یافتہ اصلاح پسند امیدواروں اور قدامت پسندوں کے درمیان اصل مقابلہ ہے۔اس وقت دو سو نوے ارکان پر مشتمل اسمبلی میں سخت گیر قدامت پسندوں کی بالادستی ہے۔یہ انتخابات صدر روحانی کی مقبولیت کا بھی ایک امتحان ہوں گے۔

ان انتخابات کے نتیجے میں ایران کی خارجہ پالیسی میں تو کوئی جوہری تبدیلی رونما نہیں ہوگی کیونکہ اس کا تعیّن کرنے کا حتمی اختیار سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے پاس ہے۔ البتہ اصلاح پسندوں کی جیت سے صدر روحانی کے ہاتھ مضبوط ہوں گے اور وہ وسیع تر اقتصادی اصلاحات کرسکیں گے جس سے ایران میں غیر ملکی سرمایہ کاری اور دوسرے ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔

واضح رہے کہ 2013ء میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں خواتین اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے حسن روحانی کے حق میں ووٹ دیا تھا کیونکہ انھوں نے ایرانیوں کو اپنے ملک میں وہی آزادیاں دینے کے وعدے کیے تھے جو دنیا کے دوسرے ممالک کے شہریوں کو حاصل ہیں۔

روحانی کے حامیوں کو امید تھی کہ وہ انتخابات میں کامیابی کے بعد ملک میں سماجی تبدیلی لائیں گے لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ ان کی جیت کے بعد سے سیاسی اور ثقافتی آزادیوں کے لیے کوئی نمایاں پیش رفت نہیں ہوسکی ہے کیونکہ انھوں نے اپنے دور صدارت میں اب تک مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری تنازعے کو نمٹانے پر ہی توجہ مرکوز کیے رکھی ہے تاکہ ایرانی معیشت کو زبوں حالی کا شکار کرنے والی بین الاقوامی پابندیوں کا خاتمہ ہو اور اس کے نتیجے میں ایرانیوں کی معاشی حالت میں بھی بہتری آئے۔

26 فروری کو شورائے نگہبان (ماہرین کی اسمبلی) کے انتخاب کے لیے بھی عوام ووٹ ڈالیں گے۔ایران کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی راہ متعیّن کرنے میں علماء کے اس منتخب ادارے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔یہی اسمبلی 76 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کا انتخاب بھی کرے گی۔

خواتین اور نوجوان

ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان گذشتہ سال جولائی میں طویل مذاکرات کے بعد جوہری معاہدہ طے پایا تھا اور اب اس پر عمل درآمد کا آغاز ہوچکا ہے۔اس تناظرمیں ایران میں پارلیمانی انتخابات منعقد ہونے جارہے ہیں۔صدر حسن روحانی اور ان کے اعتدال پسند اتحادی جیت کے لیے اپنے ووٹ کی بنیاد خواتین اور نوجوانوں پر اپنی توجہ مرکوز کررہے ہیں۔

تاہم انھوں نے صدارتی انتخابات کے لیے مہم کے دوران جو وعدے کیے تھے،وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں۔انھوں نے انٹرنیٹ پر عاید پابندیوں میں نرمی نہیں کی ہے اور سوشل میڈیا بدستور سرکاری طور پر بلاک ہے۔یہ اور بات ہے کہ حسن روحانی اور علی خامنہ ای کے اپنے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹس موجود ہیں۔

ایرانی خواتین ملکی آبادی کا نصف ہیں اور وہ مشرق وسطیٰ میں سب سے زیادہ تعلیم یافتہ سمجھی جاتی ہیں۔ایرانی خواتین کی شرح خواندگی 80 فی صد سے زیادہ ہے اور جامعات میں داخل ہونے والوں میں ان کی شرح پچاس فی صد ہے لیکن انھیں ایرانی معاشرے میں زیادہ حقوق حاصل نہیں ہیں۔ایرانی قانون کے تحت مرد حضرات اپنی بیویوں کو زیادہ آسانی سے طلاق دے سکتے ہیں اور سات سال سے زیادہ کے عمر کے بچے خود بخود ہی والد کے پاس چلے جاتے ہیں۔

ایران میں نافذ شرعی قوانین کے مطابق ایرانی خواتین حجاب اوڑھنے کی پابند ہیں۔ان کی گواہی نصف ہے اور لڑکیوں اور لڑکوں کے مقابلے میں انھیں نصف ترکہ ملتا ہے۔وہ صدارتی انتخاب میں حصہ نہیں لے سکتی ہیں۔تاہم وہ دوسرے حکومتی عہدوں پر فائز ہوسکتی ہیں،ووٹ دے سکتی ہیں اور گاڑیاں چلا سکتی ہیں جبکہ بیرون ملک سفر کے لیے اپنے خاوندوں سے اجازت لینا پڑتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایران کے بارے میں خصوصی نمائندے نے گذشتہ سال اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ روحانی کے تحت بھی ملک بدستور افسوس ناک صورت حال سے دوچار ہے جبکہ اقوام متحدہ کے تحت حقوق اطفال کے ادارے نے اسی ماہ الگ سے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ''ایران میں بچیوں کو خاندانی تعلقات ،فوجداری نظام انصاف اور املاک کے حقوق میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے''۔تاہم ایران انسانی حقوق کی کسی قسم کی خلاف ورزیوں کی تردید کرتا ہے۔