.

یو اے ای کی نئی کابینہ کا اعلان، مزید خواتین کی شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے نائب صدر ،وزیراعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے نئی وفاقی کابینہ کا اعلان کیا ہے اور اس میں نئی خواتین وزراء شامل کی ہیں جس کے بعد میں یو اے ای کی کابینہ میں شامل خواتین وزراء کی تعداد ایک تہائی کے لگ بھگ ہوگئی ہے۔

یواے ای کی حکومت نے ''مسرت اور رواداری'' کے نام سے نئی وزارتیں تخلیق کی ہیں اور ان دونوں وزارتوں کے قلم دان خواتین ہی کو سونپے ہیں۔ دنیا بھر میں شاید اپنی نوعیت کی یہ پہلی وزارتیں ہیں۔

نئے وزراء کی شمولیت کے بعد یو اے ای کی وفاقی کابینہ کے ارکان کی تعداد انتیس ہوگئی ہے۔ان میں آٹھ خواتین ہیں۔ نئی کابینہ میں وزارتوں کی تعداد کم کردی گئی ہے لیکن قومی ،تزویراتی اور اسی طرح زیادہ اہمیت کے حامل دوسرے محکموں کے وزراء کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔

یواے ای کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے بدھ کے روز ٹویٹر کے ذریعے اپنے کابینہ میں اس رد وبدل کی اطلاع دی ہے اور بتایا ہے کہ یو اے ای کے صدر شیخ خلیفہ بن زاید آل نہیان نے اس نئی کابینہ کی منظوری دے دی ہے۔

کابینہ میں ان نئی تبدیلیوں کے تحت نوجوانوں کی ایک کونسل کی تشکیل کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔اس کی چیئرپرسن ایک نوجوان خاتون کو بنایا گیا ہے اور اس کی عمر بائیس سال بھی کم ہے۔اس کونسل میں نوجوان مردوں اور خواتین کو شامل کیا جائے گا اور وہ مشاورتی عہدوں پر کام کریں گے۔

شیخ محمد بن راشد نے نجلاء محمد العور کو وزیرمملکت برائے کمیونٹی ترقی، جمیلہ سالم المہیری کو وزیرمملکت برائے تعلیم ،عهود الرومی کو وزیر مملکت برائے مسرت وشادمانی اور نورة الكعبی کو وفاقی قومی کونسل کے امور کی وزیرمملکت مقرر کیا ہے۔ شما المزروعی کو نوجوانوں کے امور کی وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔ وہ نوجوانوں کی قومی کونسل کی سربراہ بھی ہوں گی۔

بعض وزارتوں کے نام تبدیل کردیے گئے ہیں اور انھیں نئی ذمے داریاں سونپی گئی ہیں۔وزارت برائے امور خارجہ کو بین الاقوامی تعاون اور ترقی کی وزارت میں ضم کردیا گیا ہے۔ وزارت برائے کابینہ امور کا نام تبدیل کرکے وزارت برائے ''کابینہ امور اور مستقبل'' رکھ دیا گیا ہے۔اس کا مقصد یو اے ای کے ''بعد ازتیل'' مستقبل کی تیاری کرنا ہے۔

شیخ محمد بن راشد آل مکتوم نے سوموار کے روز ٹویٹر پر یہ اعلان کیا تھا کہ یو اے ای کی حکومت بیشتر سرکاری امور کو انجام دہی کے لیے نجی شعبے کے حوالے کردے گی اور وزارتوں کی تعداد بھی کم کردی جائے گی۔

متحدہ عرب امارات کے جزوی طور پر منتخب ادارے وفاقی قومی کونسل کے ایک رکن سعید الرمیثی کا کہنا ہے کہ کابینہ میں اس رد وبدل کے بعد نوجوانوں کو بھی ملک کے مستقبل کے لیے کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔

انھوں نے ایک مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''یہ نوجوانوں کی سیاست میں حصہ لینے، حکومت اور کابینہ میں کردار ادا کرنے اور بین الاقوامی سطح پر موجود رہنے کے لیے ایک بڑی تحریک ہے''۔