.

امریکا میں مسلمانوں کا داخلہ، جارج کلونی کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لگتا ایسا ہے کہ خوبرو امریکی اداکار جارج کلونی اپنے دورہ جرمنی کے دوران برلن فلم فیسٹیول میں شرکت پر اکتفا کرنے پر راضی نہیں۔ اسی لیے انہوں نے اپنی لبنانی نژاد وکیل اہلیہ امل علم الدین کے ساتھ مل کر انسانی حقوق کے لیے سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ کلونی نے جو اس سے قبل دارفور کے پناہ گزینوں کے لیے بھی سرگرم عمل رہے تھے اور ابھی تک سرگرم ہیں، انہوں نے جرمن چانسلر انجلا میرکل سے ملاقات کے دوران پناہ گزینوں کے مسئلے پر بات چیت کی ہے۔

جارج کلونی نے ایک بین الاقوامی نیوز ایجنسی سے گفتگو میں باور کرایا ہے کہ پناہ گزینوں کا بحران.. شام اور عراق سے اجتماعی ہجرت کرنے والے انسانی سمندر سے کہیں زیادہ بڑا ہے جس پر نیوز میڈیا نے روشنی ڈالی ہے، اور یہ لاکھوں انسانوں کا مسئلہ ہے۔

مسلمانوں کے خلاف نسل پرستی سے متعلق بیانات کے حوالے سے جن کا آغاز "انتخابی مہم کے جنون" کے دوران ہوا... جارج کلونی نے امریکیوں پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں سمجھتا ہوں کہ امریکی اس سلسلے میں صحیح کام ہی کریں گے"۔ وہ ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی کے مطالبوں کو مسترد کردیں گے۔

کلونی اور ان کی وکیل اہلیہ نے جو انسانی حقوق کی سرگرم کارکن بھی ہیں جرمن چانسلر انجلا میرکل سے ان کے دفتر میں بند کمرے میں ملاقات کی۔

پناہ گزینوں کے بحران کے حوالے سے کلونی نے کہا کہ "میرے نزدیک پناہ گزینوں کا بحران صرف شامی پناہ گزینوں تک محدود نہیں۔ جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ جنوبی سوڈان اور دارفور میں ابھی تک مہاجرین اور پناہ گزین ہیں۔ لاکھوں لوگ ابھی تک موت کے منہ میں جارہے ہیں... درحقیقت یہ بحران دنیا بھر میں موجود ہے۔ اس وقت دنیا میں 6 کروڑ مہاجرین پائے جاتے ہیں جو یقینا ایک خوف ناک بات ہے"۔

ڈونلڈ ٹرمپ اور مسلمانوں پر پابندی

امریکا میں ممکنہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کلونی نے کہا کہ آخرکار امریکی صحیح فیصلہ کریں گے۔ واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل ایک بیان میں زور دیا تھا کہ مسلمانوں کے امریکا میں داخل ہونے پر پابندی لگائی جائے اور میکسیکو سے غیرقانونی مہاجرین کی آمد روکنے کے لیے امریکا کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کی جائے۔

کلونی نے مزید کہا کہ "میں لوگوں کو امریکی سیاسی واقعات دیکھنے سے ہمیشہ خبردار کرتا ہوں اس لیے کہ ہم سیاسی سیزن کے دوران جنونی پن کے قریب آ جاتے ہیں جب کہ یہ ایک طویل سیزن ہوتا ہے"۔ ان کا کہنا تھا کہ " میرے خیال میں ونسٹن چرچل کا یہ قول ہے کہ : جب امریکی اپنے پاس موجود تمام ممکنہ اختیارات (آپشن) ختم کردیں تو پھر آپ ہمیشہ صحیح چیز پر عمل کے لیے ان پر اعتماد کرسکتے ہیں ... اس لیے آپ جانتے ہیں کہ ہر چیز ٹھیک ہوجائے گی تاہم اس میں ہمیں تھوڑا وقت لگے گا"۔

یاد رہے کہ امریکی اداکار جارج کلونی اور ان کی اہلیہ فلم "ہیل سیزر" کے بین الاقوامی پریمیئر شو میں شرکت کے سلسلے میں جرمن دارالحکومت برلن میں ہیں۔ اس فلم میں کلونی نے ہیرو کا کردار ادا کیا ہے۔ اس شو کے ذریعے جمعرات کے روز سالانہ برلن فلم فیسٹیول کا افتتاح ہوا تھا۔