.

اسدی ’چیلے‘ کی سعودی عرب میں کمانڈو اتارنے کی دھمکی

شام میں فوجی کارروائی کے سعودی اعلان سے اسدی گماشتےخوف زدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے متنازع صدر بشارالاسد اور اس کے نورتنوں کی جانب سے سعودی عرب کےخلاف دھمکی آمیز بیانات کوئی نئی بات نہیں۔ بشارالاسد اور ان کی حکومت کا دفاع کرنے والے آئے روز مملکت سعودی عرب کےخلاف زہراگلتے رہتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے خلاف تازہ زہرافشانی بشارالاسد کے ایک ’تابعدار‘ چیلے جنرل بھجت سلیمان کی جانب سے سامنے آئی ہے جس میں موصوف نے ایک بزدلانہ بیان میں سعودی عرب میں اپنے کمانڈو اتارنے کی دھمکی دی ہے۔

میجر جنرل بھجت سلیمان اردن میں شام کے سابق سفیر بھی رہے ہیں مگرانہیں ان کے سفارتی قرینوں کی خلاف ورزی اورشامی عوام کے خلاف اسدی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی حمایت کے بعد اردن سے بے دخل کردیا گیا تھا۔

حال ہی میں بھجت سلیمان نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ’’فیس بکُ‘‘ پر پوسٹ کردہ بیان میں دھمکی دی کہ ہماری فوج کسی بھی وقت سعودی عرب میں اتر سکتی ہے۔ بشارالاسد کے انتہائی وفادار چیلے نے لکھا کہ ’’صرف 10 ہزار شامی کمانڈوز رات کی تاریکی میں ریاض میں اتریں گے جو شاہی محلات پرقبضہ کرلیں گے‘‘۔

جنرل بھجت سلیمان کے بارے میں ذرائع ابلاغ میں اب تک جتنی بھی کہانیاں سامنے آئی ہیں ان میں انہیں صدر بشارالاسد کا انتہائی وفادار، چاپلوس بتایا گیا۔ حتیٰ کہ معمولی نوعیت کےکاموں اورکپڑے زیب تن کرنے میں بھی بھجت بشارالاسد کی نقالی اور پیروی کرتا ہے۔

فیس بک پر اس کے کمنٹس اور تبصرے خاصے مشہور ہیں جن میں زیادہ ترک سعودی عرب اور ان ممالک کے خلاف ہیں جو شام میں بشارالاسد کے مظالم کی مذمت کرتے ہیں۔

حال ہی میں فیس بک کی انتظامیہ نے بھجت کے ایک بیٹے کا سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ اس لیے بلاک کردیا گیا کیونکہ اس میں اسدی فوج کو عام شہریوں کو قتل کرنے پربار بار اکسایا گیا تھا۔ نہتے شہریوں کے قتل پراکسانا عالمی قوانین کے اعتبار سے جنگی جرم ہے اور بشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کی صورت میں ایسے لوگوں کو جنگی جرائم کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

’بیداری میں خواب دیکھنے والے‘ اسدی کارندوں کو اپنےبدترین انجام کی فکربھی لاحق ہے مگر دوسری جانب وہ اپنا غم غلط کرنے کے لیے سعودی عرب کے شاہی محلات پرقبضے بھی خواب دیکھ رہے ہیں۔ جب سے سعودی عرب نے شام میں فوجیں اتارنے کا اعلان کیا ہے تب سے بشارالاسد اور ان کے نو دولتیوں کو صرف ڈراؤنے خواب ہی آنے لگے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے شام میں فوجی کارروائی کے اعلان کے بعد بشارالاسد کے مقربین کو اپنا مستقبل خطرے میں گھرا دکھائی دے رہا ہے اور وہ خوف ودہشت کی وجہ سے ہسٹیریا کا شکار ہیں۔