.

اسلحہ ساز کمپنیاں کھلونا ہتھیاروں کی تیاری میں مصروف

چھ سے بارہ سال کےبچے اسلحہ سازوں کے نئے گاہک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا میں اسلحہ اور گولہ بارود کے ڈھیرلگانے والی کئی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اپنی توجہ بچوں کے کھلونا ہتھیاروں کی تیاری پرمرکوز کردی ہے جس کے بعد ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف ہواہے کہ بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں نے بچوں کے لیے کھلونا ہتھیاروں کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری شروع کردی ہے۔ ان کمپنیوں کی جانب سے بچوں کے لیے بندوق کی شکل کے کھلونے اور بچیوں کے لیے گلابی رنگ کے کھلونا پستول تیار کرنے کے بعد مارکیٹ میں لائے گئے ہیں۔

امریکا میں اسلحہ کے پھیلاؤ کی روک تھام میں سرگرم ’’فیولینز پالیسی‘‘ سینٹر کی جانب سے مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلحہ ساز کمپنیاں اب چھ سے بارہ سال کے بچوں کو بھی اپنا گاہک بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا میں سفید فام نسل کے لوگ اپنے بچوں کے لیے کھلونا ہھتیاروں کی خریداری میں سیاہ فام نسل سے زیادہ سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں۔

بچوں کے لیے تیار کردہ کھلونا بندوقوں کو ایسے انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ان کے چلنے سے حقیقی فائرنگ کی آواز سنائی دیتی ہے۔ کھلونا بندوقوں سے عموما بچیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ جب کہ بچیوں کے لیے گلابی رنگ کی پستول تیار کی گئی ہے۔

اسلحہ کے پھیلاؤ کی مخالفت کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کھلونا ہتھیاروں کی تیاری بچوں کو حقیقی اسلحہ کے حصول کی ترغیب ہے۔

بچوں کو کھلونا ہتھیاروں سے لیس کرنے کی مہمات کے پس پردہ ’’نیشنل رائفل ایسوسی ایشن‘‘ نامی گروپ پیش پیش ہیں جو بچوں کے والدین کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ وہ کم عمری ہی میں اپنے بچوں میں اسلحہ رکھنے اور اس کے استعمال کا شوق پیداکریں۔

امریکا میں بچوں کے لیے کھلونا ہتھیاروں کی تیاری اور اس کے پھیلاؤ کا تازہ رحجان ایک ایسے وقت میں دیکھنے کو ملا ہے جب ملک میں بچوں کے ہاتھوں فائرنگ کے واقعات میں کئی جانیں جا چکی ہیں۔

شہری حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی جانب سے حکومت سے باربار یہ مطالبہ کیا جاتا رہاہے کہ وہ بچوں کو اسلحہ کے حصول کی طرف لانے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کرے۔