.

چینی شہری نے خود اپنی آخری رسومات منعقد کر ڈالیں!

محبت وخلوص آزمانے کا منفرد انداز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں لوگ خود سے محبت کرنے والوں کے خلوص ومحبت کو آزمانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں۔ حال ہی میں #چین کے ایک شہری نے اپنے چاہنے والوں کی محبت آزمانے کے لیے اپنی موت اور تجہیزو تکفین کا اعلان کر کے اپنے دوست احباب کو اپنی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دے دی۔

ایک زندہ اور تندرست وتوانا چینی سے جب پوچھا گیا کہ اس نے اپنی زندگی میں خود ہی اپنی آخری رسومات کا اعلان کیوں کیا تو اس کا جواب تھا کہ اس نے یہ سب کچھ اپنے چاہنے والوں کی محبت آزمانے کے لیے کیا ہے۔ مجھ سے محبت کرنے والے میری وفات کا سن کر میرے جنازے میں ضرور شریک ہوں گے جنہیں مجھ سے کوئی خاص محبت نہیں وہ میرے جنازے میں نہیں آئیں گے۔

عزیزو اقارب اور دوست احباب کی محبت جانچنے والے چینی کا نام زانگ دیانگ جو ملک کے شمالی علاقے شاندونگ کا رہنے والا ہے۔ رواں ماہ اس نے اچانک اپنے تمام اقارب کو پیغام بھجوایا کہ وہ فوت ہوچکا ہے، لہٰذا وہ اس کی آخری رسومات میں شرکت کریں۔ اس پر اس کے تمام احباب اس کے گھر کو دوڑ پڑے۔

زانگ ایک غیر شادی شدہ شخص ہیں جس کی کوئی اولاد نہیں۔ البتہ اہل محلہ انہیں ’مدد گار‘ کے طورپر جانتے ہیں کیونکہ وہ اکثر دوسروں کے کام آتے ہیں۔

خیال رہے کہ اہل چین کے مذہبی عقاید کے مطابق مرنے کے بعد بھی انسان کی اسی دنیا کی طرح کی ضروریات ہوتی ہیں مگر وہ اپنی ضروریات خود پوری نہیں کرسکتے۔ ان کی ضروریات ان کے اقارب اور ان کی قبروں پر آنے والے کرتے ہیں۔ مُردوں کی قبروں پر اگربتیاں جلائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ کرنسی نوٹ اس خیال کے ساتے جلاتے ہیں کہ اس سے مردے کو اپنی ضروریات پوری کرنے کا موقع ملتا ہے۔

زانگ کا کہنا ہے کہ اسے خدشتہ تھا کہ مرنے کے بعد کوئی شخص اس کا خیال نہیں کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے چند سال قبل خود ہی اپنی قبرکھودی، رواں سال جنازے کا اہتمام کیا اور اس سارے کام پر بے دریغ پیسہ خرچ کیا۔

زانگ کی زندگی میں منعقد ہونے والی اس کی آخری رسومات میں سیکڑوں اہل محلہ کے علاوہ دور پار رہنے والے چالیس کے قریب عزیز واقارب بھی موجود تھے۔