.

"داعشی" باپ کی خواہش پر ننھا بیٹا موت کو گلے لگانے روانہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں خوف، دہشت، وحشی پن اور بربریت کی علامت شمار کی جانے والی "داعش" تنظیم کی جانب سے وقتا فوقتا اپنی سفاکانہ کارروائیوں کی وڈیوز سامنے آتی رہتی ہیں جن کو بسا اوقات بچے اور بوڑھے تو کیا مضبوط دل رکھنے کا دعویٰ کرنے والے بھی نہیں دیکھ سکتے۔ تاہم حال ہی میں منظرعام پر آنے والی اپنی نوعیت کی منفرد وڈیو نے دیکھنے والوں کی زبانیں تو گنگ کردی ہیں مگر بہت ساتھ ہی بہت کچھ سوچنے پر بھی مجبور کردیا ہے۔

یہ وڈیو ابو عمارہ العمری کی عرفیت رکھنے والے ایک 11 سالہ ننھے "داعشی" کی ہے...جس نے شام کے شمال میں حلب شہر کے نواحی دیہات "غزل" میں خودکش حملہ کیا تھا...اس حملے کو داعش کی انتہائی خونی کارروائیوں میں سے سمجھا جاتا ہے۔ وڈیو میں ان مناظر کو دیکھتے ہوئے انسان اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتا جن میں ننھے داعشی کا باپ اس کو خود ڈرائیونگ سکھانے کے بعد مختلف نوعیت کے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی میں بٹھا کر الوداع کہہ رہا ہے۔ وڈیو کے آخر میں ننھے خودکش حملہ آور کی کامیاب کارروائی کا نتیجہ دور سے اٹھتے آگ کے بلند و بالا شعلوں کی صورت میں نظر آرہا ہے۔

ابو عمارہ العمری نے یہ کارروائی جنوری کے وسط میں کی تھی تاہم یہ وڈیو جس کو "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے یوٹیوب سے لے کر اب پوسٹ کیا ہے اور کارروائی کی دیگر تصاویر ہفتے کے روز سے قبل منظر عام پر نہیں آئیں۔ اس وڈیو نے عالمی میڈیا کی بھرپور توجہ حاصل کرلی ہے جہاں بہت سی ویب سائٹوں کی جانب سے اسے نشر کیا جارہا ہے۔ میڈیا میں اس وڈیو سے متعلق خبر کو انتہائی تعجب کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے ... ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ آیا کوئی باپ خود اپنے چھوٹے سے بیٹے کو خودکش کارروائیوں کی بھینٹ چڑھا سکتا ہے !